انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 117

انوار العلوم جلد 4 ۱۱۷ آئینه صداقت کھی گئی ہوگی لیکن اگر مولوی صاحب کی بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو مولوی صاحب بتائیں کہ اس سالانہ میں نکلنے والی کتاب کا علم شالہ میں مجھے کیونکر ہوگیا تھا کہ اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا بڑے زور سے اعلان کیا۔ یہ شانہ کا واقعہ ہے جس وقت میری عمر سترہ سال کی تھی کہ میں نے شیخ عبد الرحیم صاحب مرحوم مالیر کوٹلوی نے ، چوہدری فتح محمد صاحب ایم اے مسلم مشنری اور چند دیگر طالب علموں نے مل کر یہ تجویز کی تھی کہ سلسلہ کی خدمت اور نوجوانوں میں خدمت دین میں حصہ لینے کا جوش پیدا کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کیا جاوے۔ اور حضرت مسیح موعود کی اجازت سے آپ ہی سے نام رکھوا کر ہم نے رسالہ تشحیذ الاذہان جاری کیا۔ اور دوستوں کے مشورہ سے میں اس کا ایڈیٹر مقرر ہوا۔ اس رسالہ کا پہلا نمبر یکم مارچ شانہ میں شائع ہوا ۔ اور اس کا انٹرو ڈکشن جو میں نے لکھا ہے ۔ اس میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کا میں نے ذکر کیا ہے اور صاف لفظوں میں میں نے آپ کو نبی ظاہر کیا ہے۔ اس رسالہ کے صفحہ پر مسیح موعود کا ذکر کرتے ہوئے دنیا کے لوگوں کو مخاطب کر کے میں نے لکھا ہے۔ کیا یہ تیرا خیال ہے کہ میں کسی بڑی قوم کا ہوں یا میرے پاس زر و جواہر ہیں یا میری قوت بازو بہت لوگ ہیں ۔ یا میں بہت بڑا ہ میں یا بادشاہ ہوں یا بڑا ذی علم آدمی ہوں۔ سجادہ نشین ہوں یا فقیر ہوں ۔ اس لئے مجھ کو اس رسول کے ماننے کی حاجت نہیں ، پھر صفحہ 11 پر اسی انٹروڈکشن میں لکھا ہے ۔ تھوڑوں نے اس کو قبول کیا اور بہتوں نے انکار کیا ۔ جیسا کہ پہلے نبیوں کے متعلق سنت اللہ چلی آتی ہے اب بھی ویسا ہی ہوا ۔ ایسا ہی صفحہ پر لکھا ہے ۔ غرضکہ ہر ایک قوم ایک نبی کی منتظر ہے ۔ اور اس کے لئے زمانہ بھی یہی مقرر کیا جانا ہے ۔ ہمارے پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانات اس نبی کی پہچان کے بنائے ہیں اور اس کے پہچاننے کے لئے جو جو آسانیاں ہمارے لئے پیدا کر دی ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ ہمارے رسول کریم کا مرتبہ کسقدر بلند و بالا تھا ۔ اسی طرح صفحہ ۵ ۶ پر لکھا ہے۔ اب یہ دیکھا چاہیے کہ اس زمانہ میں کی نبی کی ضرور ہے یا نہیں کیا اس زمانہ کو اچھا زمانہ کہاجائے یا برا جہان تک دیکھا جاتا ہے اس زمانہ سے بڑھکر دیا سی بھی فسق وفجور کی ترقی نہیں ہوئی تمام دنیا ایک زبان ہوکر چلا اٹھی ہے کہ گناہوں کی حد ہوگئی ہے۔ یہی زمانہ ہے کہ دنیا میں ایک مامور کی حد سے زیادہ ضرورت ہے اور یہ مضمون ہے کہ حضرت خلیفہ میں نے اسے اسقدر پسند فرمایا کہ مسجدمیں اسکے پڑھنے کی بہت سے لوگوں کو تاکید کی جن میں سے خواجہ کمال الدین صاحب بھی ہیں اور حضرت مسیح موعود کے سامنے بھی اس کی تعریف کی ۔ مگر حضرت خلیفہ اول کی تعریف شاید مولوی محمد علی صاحب کے لئے ایسی مؤثر نہ ہو ۔ جیسے خود ان کی اپنی تحریر میرے اس مضمون پر جو کچھ خود مولوی محمد علی صاحب نے رسالہ ریویو آف ریلیجز میں تشمیذ الاذہان پر ریویو کرتے ہوئے لکھا ہے ۔ وہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ اس وقت خود مولوی محمد علی صاحب کے