انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 98

قلم سے اس اخبار کے ایڈیٹر کو ۲۳ ؍ مئی ۱۹۰۸؁ء کو اپنی وفات سے دو تین دن پہلے لکھا۔جس میں سے یہ چند سطور نقل کی جاتی ہیں) تحریر فرماتے ہیں:- اخبارِ عام میں مسیح موعود ؑ کا صاحبِ شرع نبی ہونے سے انکار ’’پرچہ اخبار عام ۲۳؍مئی ۱۹۰۸؁ءکے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا میں نے جلسہ دعوت میں نبوت سے انکار کیا۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں مَیں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ مَیں ہمیشہ اپنی تالیفات کےذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اوراب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ مَیں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیںرکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے‘‘۔دشمنوں کا الزام دُور کرنے کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود ؑاپنے دعوے کے متعلق اس خط میں یہ فرماتے ہیں کہ :- جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہےاور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا ہے اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جبتک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا۔اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔سو مَیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اوراگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔‘‘ پھر دوسرےانبیاء علیہم السلام کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ:- ’’منجملہ ان انعامات کےوہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے تھے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵،روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹حاشیہ) ان تینوں تحریروں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کے دشمن آپ ؑپر تشریعی نبی ہونےکا الزام لگاتے تھے لیکن آپ ؑاس سےانکار کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مَیں تو ان معنوں میں نبی ہوں کہ مجھے کثرت سے امورِغیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے۔اورپہلے انبیاؑءبھی انہی معنوں میں نبی