انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 96

انوار العلوم جلد 4 ۹۶ آینه صداقت نے اس کو صاف بچا لیا اور اس کے دشمنوں کو اس کے خلاف بلاک کر دیا ۔ سلسلہ سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ میں بین امتیاز غرض جہاں سالہ محمدیہ اور سلسل موسو میں ایک عجیب مشابہت ہے ۔ وہاں اللہ تعالی کے فضلوں اور اس کی تائیدوں کے لحاظ سے ایک بین امتیاز بھی ہے۔ پیس صرف اس وجہ سے کہ دونوں سلسلے مشابہ ہیں یہ کہ دینا کہ اس لئے حضرت مسیح موعود کی جماعت ضرور غلو کرنے والی ہے ۔ درست نہیں ہو سکتا ۔ مسیح موعود کی جماعت پر غلو کا الزام لگانے سے اگر اسی بات سے نتیجہ نکالنا درست ہے۔ تو کیا شیعوں کا یہ الزام ہم شیعوں کا اعتراض صحابہ کے متعلق ضرور انا پریا درست تسلیم کر لیں کہ اکثر صحابه رست کرید منافق تھے کیونکہ اس کی تائید میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسمی تھے اور حضرت موسی کی جماعت کے کثیر حصہ نے عین موقع پر نفاق دکھایا تھا۔ اس لئے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اکثر صحابہ منافق تھے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔ رسول کریم اور سیح موعود کی روحانیت نے اپنے جس طرح آنحضرت صلی الہ علیہ لم کی روحانیت نے آپ کی جماعت صحابہ کو اپنے مثیل کے ساتھیوں کی مشابہت سے بچا لیا کے اکثر حصہ کو حضرت موسی کے وقت کے لوگوں کی مشابہت سے بچایا اور صرف کچھ لوگ منافقت کا شکار ہوئے ۔ اسی طرح شیخ محمدی کی روحانیت بھی ضروری تھا کہ اپنی جماعت کے کثیر حصہ کو اس غلطی سے بچاتی جو مسیح ناصری کے بعد اس کی جماعت سے ہوئی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سوائے ایک قلیل گروہ کے سب جماعت مرکز سلسلہ سے متعلق ہے اور اپنے اپنی عقائد پر قائم ہے جس پر پہلے وہ قائم تھی ۔ ہاں جس طرح ایک قلیل گروہ جو خلافت کا منکر تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو گرانے لگا اور جس کا اظہارہ حضرت علی کے وقت میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہونے کی وجہ سے آپ کے بیٹے کی طرح تھے ہوا اسی طرح آج اس وقت جبکہ حضرت مسیح موعود کا ایک بیٹا خلیفہ ہوا ایک قلیل گروہ خلافت کا منکر منکر پیدا ہوا اور جس طرح خوارج نے یہ اعلان کیا تھا کہ الطَّاعَةُ لِلَّهِ وَالأَمْرُ شوری بَيْنَنَا ۔ یعنی اطاعت تو صرف اللہ تعالی کی ہوتی ہے باقی انتظامی امور میں تو آپس کا فیصلہ جو مشورہ کے بعد قرار پائے وہی جاری ہونا چاہئے ۔ یعنی خلیفہ کوئی چیز نہیں ایک پارلیمنٹ ہو۔ اسی