انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 55

ان کے یہ اعتقاد موجود ہیں انکو ہر گز یہ حق نہیں کہ حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کریں۔ورنہ وہ جھوٹ کے الزام کے باوجود ان کے اپنے اعتقاد و مسلّمات کی رُو سے نبی ہیں اوران پر یہ کوئی اعتراض نہیں کرسکتے۔غلطی اور جھوٹ میں فرق دراصل یہ چھچھوری بات ہے۔غلطی اور جھوٹ میں بہت فرق ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو اصل بات یاد ہوتی ہے لیکن لکھتے یا بولتے وقت حوالہ دینے میں غلطی ہوجاتی ہے۔فرض کرلو کہ اگر کوئی قرآن کریم کی ایک آیت ہے تو کیا اس کو کوئی عقلمند جھوٹ کہے گا۔جھوٹ تو تب ہوتا کہ اس آیت کا قرآن کریم میں وجود ہی نہ ہوتا۔اسی طرح حدیث کے حوالے میں اگر حضرت مسیح موعود ؑ نے مسلم کی بجائے بخاری یا کسی اور کتاب کا نام لکھ دیا۔تو اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسی غلطی عموماً ہو جاتی اوربہت دفعہ ایک حدیث کے بہت سے اجزاء ہوتے ہیں جو متفرق مقامات اور متفرق کتب میں ملتے ہیں یا ان کی شرحوں میں کوئی بات آگئی ہوتی ہے۔لکھنے میں اصل کتاب کا ایک کتاب کا نام لے دیا جاتا ہے بخاری کے متعدد ابواب اس قسم کے ہیں کہ ان کے نیچے جو حدیثیں درج ہیں انکا عنوان سے کچھ تعلق نہیں۔شارحین اس کی تاویلیں کرتے ہیں۔مگر اصل بات یہ ہے کہ امام بخاری باب کی عبارت اس حدیث کے ایسے ٹکڑوں کی بناء پر لکھ دیتے ہیں جو اس جگہ انہوں نے درج نہیں کئے ہوتے۔اسی طرح اگر حضرت مرزا صاحب سے کسی صحیح حدیث کو لکھ کر اصل کتاب کی بجائے کسی دوسری کتاب کا نام لکھا گیا تو ان پر جھوٹ کا الزام بد دیانتی اور بیہودگی ہے۔چلو ہم اس کو سنّت بخاری کہدینگے پھر وہ کیا اعتراض کریں گے۔حضرت مسیح موعود ؑ پر نبیوں کی ہتک کا جھوٹا الزام پھر کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے نبیوں کی ہتک کی اور حضرت عیسیٰ کو گالیاں دیں۔لیکن اس سے زیادہ ان کی کیا کم فہمی ہوسکتی ہے کہ حضرت اقدسؑ پر حضرت عیسٰی علیہ السلام کو گالیاں دینے کا الزام لگایا جائے۔کیا دُنیا مین کوئی شخص جس کا مثیل ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے متعلق یہ کہ کہ میں اس جیسا ہوں اس کو گالیاں دے سکتا اور اس کو نفرت کی نگاہ سےے دیکھ سکتا ہے۔کیا ان بے خبروں اور معترضوں کو علم نہیں کہ جب عیسائیوں کی زبان اور قلم سے ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں گند و خرافات بکا جانے لگا۔اور انہوں نے گندی سے گندی اور ناپاک سے ناپاک گالیاں دینا شیوا بنا لیا اس وقت حضرت مسیح موعود نے ان کو یہ محسوس کرانے