انوارالعلوم (جلد 6) — Page 44
ہم موجودہ صورت میں عدم تعاون کو غلط سمجھتے ہیں اس لئے ہم مذہباً عدم تعاون کے طریق پر کاربند نہیں ہوسکتے لیکن یہ لوگ ہم سے زیادہ مجرم ہیں کہ باوجود یہ طریق اختیار کرنے کے پھر تعاون کرتے ہیں۔پچھلے دنوں کالج چھوڑے مدد سے چھوڑے اور ہمارے لڑکوں کو مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ہماری لاہور کی جماعت کےپریذیڈنٹ کو خط لکھا گیا کہ یا تو آپ کے طلباء کالج میں نہ جاویں ورنہ ہم ان کو مارینگے لیکن ہمارے طلباء چونکہ اس مسئلہ کو غلط جانتے ہیں اس لئے وہ ان کے ساتھ اس غلطی میں نہ شامل ہوسکتے تھے نہ ہوئے۔اگر چہ ان میں سے بعض کے ساتھ بہت بُرا سلوک بھی کیا گیا۔مگر چند روز کے بعد وہ جوش ٹھنڈے ہوگئے اور وہی جو دوسروں کو مار مار کر مجبور کرتے تھے کہ کالج چھوڑیں خود واپس آگئے اور پھر شرمندگی کے ساتھ دعویٰ بھی کرنے لگے کہ ہم نے کچھ کیا تو سہی۔حالانکہ جو کچھ انہوں نے کیا یہ ایسا تھا کہ اگر نہ کرتے تو بہت اچھا تھا۔انہوں نے جو کاروائی کی اس سے اپنے لیڈروں کو ذلّت پہنچائی اور اس تحریک کو بے وزن کردیا۔ہمارا اور ان کا نقطہ نگاہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارا نقطۂ نگاہ سے اعلیٰ ہے ہمارا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ دین پھیل جائے اور ان کا محض یہ خیال ہے کہ دنیا ان کو مل جائے۔ہمیں اسلام تباہ ہوتا ہوا نظر آرہا تھا اور یہ اس کی طرف سےغافل ہیں۔ابھی بیس سال بھی نہیں گذرے کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں میں یہ خیالات پھیلے ہوئے تھے کہ’’ خلیفۃ المسلین ‘‘ سلطان ترکی کی فوج ڈھائی کروڑ ہے اور تمام یورپ کی حکومتوں کے سفیر جب سلطان کی سواری نکلتی ہے رکابیں تھام تھام کر ساتھ چلتے ہیں۔اگر چہ جتنی وہ فوج بتلاتے تھے اتنی اس کے ملک کی آبادی ہی ہوگی۔یہ لوگ اس قسم کی شان و شوکت کے خیالات میں مست تھے۔اور ادھر اور اقوام تو الگ رہیں سیّد زاد ے جن کی تمام تر عزت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تھی اسلام کو چھوڑ چھوڑ کر عیسائیت کا جامہ پہن رہے تھے اور اسٹیجوں پر کھڑے ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی سے گندی گالیاں دیتے تھے اور صرف ہندوستان میں مسلمانوں میں سے قریباً پانچ لاکھ کے قریب لوگ عیسائی ہوچکے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر آج سے چالیس برس پہلے ایک خدا کے مرد نے کھڑے ہوکر آواز دی اور کہا کہ مسلمانوں ! ہوشیار ہوجائو۔اب بھی وقت ہے کہ تم غفلت چھوڑ دو اور اسلام کی حفاظت کی فکر کرو۔مگر مسلمانوں نے اس آواز کو حقیر سمجھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام توعین عروج پر ہے۔ہمیں سلطنت کی ضرورت ہے اس کیلئے کوشش کرنی چاہئے۔ہمیں مذہب کی فکر ہے اوران کو