انوارالعلوم (جلد 6) — Page 555
زبردست دلائل اور خدا کی تائید ساتھ نہ ہو انسان اپنے فیصلہ میں غلطی کرسکتا ہے۔ابھی دیکھئے ایک سال کے قریب ہی عرصہ ہوا کہ قریباً تمام علماء نے یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ ہندوستان دارلحرب ہے اور اب یہاں سے ہجرت کرجانا چاہیے۔کسی شان سے ہجرت کی تیاریاں ہوئیں مگر پھر کیاانجام ہوا؟ شریعت کی بناء پر یہ فیصلہ دیا گیا تھا وہ شریعت اب بھی اسی طرح موجود ہے اور وہ حالات بھی اب تک موجود ہیں مگر ہجرت کا حکم منسوخ کرنا پڑا۔یہ جلد بازی کا نتیجہ تھا مَیں نے اس وقت بھی کہہ دیا تھا کہ یہ کام اچھا نہیں اور اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اس کا انجام اچھا نہ ہوگا اور دشمنوں کو اس پر ہنسی کا موقع ملے گا چنانچہ اسی طرح ہوا۔اسی طرح نان کو آپریشن کا فیصلہ تمام ہندوستان کے علماءنے آیات قرآنیہ کی بناء پر کیا اور بعض کے نزدیک تو گویا سارا قرآن کریم ہی اسی غرض سے نازل ہوا تھا مگر باوجود اس کے اب تک سرکار کا کوئی دفتر یا کوئی محکمہ خالی نہیں ہوا بلکہ خود مفتیان اپنی اغراض و مقاصد کے لئے سرکار سے تعلقات قائم کرتے ہیں اور خود اپنے بیان کردہ فتویٰ کے خلاف کر رہے ہیں۔یہ جوش بھی اب کم ہورہا ہے اور تھوڑے دنوں میں جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا اور صرف اس قدر اثر اس کا باقی رہ جائے گا کہ دشمنان اسلام اسلام کے خلاف اس فتویٰ کو پیش کرتے رہیں گے۔اس کے متعلق بھی مَیں نے بڑے زور سے مسلمانوں کو نصیحت کی تھی لیکن گو اس وقت ان کو وہ نصیحت بُری معلوم ہوئی مگر آج بہت سے لوگوں کے دل اس کی قدر محسوس کررہے ہیں اور آئندہ اور بھی کریں گے۔غرض انسان غلطی سے پاک نہیں ہے اور غلطیاں اس سے ہوجاتی ہیں۔پس اس امر میں بھی آپ کو اس قدر اصرار سے کام نہیں لینا چاہیے اور سچّے دل سے غور کرنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ اس نعمت سے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے اُتاری ہے آپ محروم رہ جائیں۔اگر یہ صورت فیصلہ بھی آپ کو منظور نہ ہو تو پھر ایک اورصورت میں پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاۗءَنَا وَاَبْنَاۗءَكُمْ وَنِسَاۗءَنَا وَنِسَاۗءَكُمْ وَاَنْفُسَـنَا وَاَنْفُسَكُمْ۰ۣ ثُمَّ نَبْتَھلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ(آلِ عمران:۲۶)مباہلہ کرلیاجائے۔مَیں یہ تجویز غصّہ اور رنج کے ساتھ نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کو مدِّ نظر رکھ کر پیش کررہا ہوں اور امید ہے کہ آپ لوگ بھی اس کو اسی نظر سے دیکھیں گے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہم لوگ رحیم نہیں ہوسکتے پس اگر بعض حالات میں آپ کو بھی *non cooperation