انوارالعلوم (جلد 6) — Page 547
مُصر رہے۔یا جیت ہار کا خیال اسقدر اس کے دمنگیر ہوجائے کہ وہ دوسرے کی بات پر غور ہی نہ کرے یا اگر غور کرے تو اس خیال سے نہیں کہ اگر وہ سچّی ہو تو اسے تسلیم کرلوں بلکہ اس خیال سے کہ اس میں سے کوئی نقص نکالوں اور اس کا کوئی عیب پکڑوں اور پھر اس وہمی عیب یا نقص کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے ان کو حق کے قبول کرنےسے باز رکھوں۔جب اختلاف یہ رنگ اختیار کرےتو یہ اختلاف باوجود مذہبی اختلاف ہونے کےاللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے غضب کا موجب ہوتا ہے اس اس کی غیرت کو بھڑکاتا ہے کیونکہ اس کا مرتکب اپنی عزت کو اللہ تعالیٰ کی عزت پر اوراپنی کامیابی کو اللہ تعالیٰ کےدین کی کامیابی پر مقدم کرلیتا ہے۔اسے یہ فکر نہیں رہتی کہ خدا کا جلاد دُنیا میں ظاہر ہو بلکہ یہ فکر لگ جاتی ہے کہ میری عزت ہو اور لوگ سمجھیں کہ یہ بڑا عقل مند اور دانا انسان ہے۔یہ مقام نہایت ہی خطرناک ہے لیکن لوگوں کی تعریف اوراپنے نفس کی بڑائی کا خیال بہت سے لوگوں کو اس مقام پر لاکر کھڑا کردیتا ہےاور اس دنیا کی عزت کی خواہش آخرت کی وسیع زندگی کی ترقیات کو آنکھوں سے اوجھل کردیتی ہے۔اس لئے خدا پر یقین رکھنے والے بندوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک اختلاف کے موقع پر اپنی نیتوں اور ارادوں کو ٹٹولتے رہیں اور اپنے طریق عمل کو جانچتے رہیں تا ایسا نہ ہو کہ اختلاف مٹاتے مٹاتے اپنے آپ کو مٹا دیں اور بدی کا قلع قمع کرتےکرتےصداقت اور راستی کے گلے پر چُھری پھیر دیں۔خصوصاً وہ لوگ جن کی باتوں کی طرف لوگ کان رکھتے ہیں اور جِن کے فیصلہ کا لوگ احترام کرتے ہیں ان کو تو بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کی غلطی کا اثر ان کی ذات تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی ان کے پیچھے چل کر ہلاک ہوجاتے ہیں اور اس سے زیادہ قابلِ شرم کیا بات ہوگی کہ ایک شخص دوسرے پر اعتبار کرکے اپنا دین اور ایمان بھی اس کے سپرد کردے اور وہ فخر و مباہات کی بازی میں اس کو بھی ہار دے۔پس مَیں آپ لوگوں کو نہایت محبت اور اخلاص سے مشورہ دیتا ہوں کہ جبکہ ہمارا اختلاف محض اللہ کے لئے ہے تو آپ کو اس کے دُور کرنے کے لئے وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے تو آپ کو اس کے دُور کرنے کے لئے وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہو اور اس کی خوشنودی کا باعث ہو۔مَیں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگ تمام کے تمام محض فتنہ کی نیت سے قادیان میں آئے ہیں یا آپ کا ظاہر اورباطن ایک نہیں ہے۔مَیں مانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے تہہ دل سے یقین رکھتے ہوں گے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ غلط تھا یا یہ کہ انہوں نے خدا پر افتراء کیا تھا لیکن کسی بات کے باطل ہونے کا یقین اگر وہ سچّی ہو تو