انوارالعلوم (جلد 6) — Page 548
اللہ تعالیٰ کے مؤاخذہ سے انسان کو بچا نہیں دیتا۔یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اسکے سچّے یا جھوٹے ہونے کو انسان ان دلائل کےذریعے سے پرکھے جن دلائل کےذریعے سے کہ اسی قسم کی صداقتیں پرکھی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص ایک بات کی سچائی کو اس ذریعے سے کہ اسی قسم کی صداقتیں پرکھی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص ایک بات کی سچائی کو اس ذریعہ سے نہیں معلوم کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی سچائی کے معلوم کرنے کیلئے مقرر کیا ہے تو وہ لاکھ یقین رکھتا ہو کہ وہ بات جھوٹی ہے خدا تعالیٰ کے حضور سرخرو نہیں ہوسکتا اور اسکا یہ کہنا کافی نہیں کہ میں اس بات کو جھوٹا سمجھتا تھا اس لئے میں نے اسے نہیں مانا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب مخالف آپ ؐکا مقابلہ شرارت سے ہی نہیں کرتے تھے بہت تھے جو واقع میں آپؐ کو جھوٹا سمجھتے تھے لیکن کیا وہ اس یقین کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ہیں خدا تعالیٰ کے موأخذہ سے بچ جائیں گے۔اس وقت بھی لاکھوں کروڑوں ہندو اور عیسائی (مسیحی) سچّے دل سے یقین کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ من ذالک سچّے نہ تھے تو کیا ان کا یہ یقین ان کو سزا سے بچا لے گا ہرگز نہیں۔کیونکہ ان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ نبیوںؑکے پہچاننے کیلئے جو طریق مقرر ہیں کیا انہوں نے ان طریقوں کو استعمال کیا تھا کہ ان کو معلوم ہوا کہ آپؐ جھوٹے تھے؟ ابوجہل کی نسبت تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوتے ہونے پر اس قدر یقین تھا کہ اس نے جنگ بدر جیسے نازک موقع پر جبکہ دونوں فریق مقابلہ کیلئے تیار کھڑے تھے مباہلہ تک سے گریز نہ کیا٭اور دُعا کی کہ جو جھوٹاہو اس پر آسمان پر سے پتھر برسیں یا کوئی اور سخت عذاب نازل ہو۔چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ انفال میں ابوجہل کو اس دُعا کا ان الفاظ میں ذکر ہے:- وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ كَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۔(الانفال ۳۳) مگر باوجود اس یقین کےجو اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹا ہونے پر تھا (نعوذ باللہ) وہ اللہ تعالیٰ کے حضور بری الذمہ نہیں ہوگا کیونکہ اس سے کہا جائے گا کہ خالی یقین کافی نہیں تو یہ بتا کہ کیا تو نے اس رسولؐ کو ان ذریعوں سے پہچاننے کی کوشش کی تھی جن سے کہ سچّے نبی پہچانےجاتے ہیں اور اس سوال کا جواب اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔غرض صرف کسی شخص کے جھوٹے ہونے کا یقین اس بات کے لئے کافی نہیں ہوتا کہ اس کی مخالفت کی جائے اور یہ یقین اللہ تعالیٰ کی گرفت سے آدمی کو بچا نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ یہ بھی دیکھتا ہے *سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ ص ۲۸۰