انوارالعلوم (جلد 6) — Page 527
کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔اس سے زیادہ ظلم اور اندھیرا اور کیا ہوسکتا ہے؟ اور اس سے زیادہ نافرمانی اوربغاوت کی کیا مثال ہوسکتی ہے ؟ بادشاہ اور اس کی رعایا کو ایک کردینا اور آقا اور نوکر کو ملا دینا اور خالق اور مخلوق کو برابری کا درجہ دے دینا سب سے بڑا ظلم ہے جس سے بڑھ کر مذہب میں رہ کر اور کوئی گناہ نہیں ہوسکتا۔مگر یہ سب کچھ مسیح علیہ السلام کے نام پر کیا جاتا ہے اور اسے عین صداقت سمجھا جاتاہے۔اسی طرح خود نجات حاصل کرنے کے لئے خدا کے ایک مقرب کو لعنت کی موت مارا جاتا ہے اور اس پر لعنت کا بوجھ لادا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ تین دن رات اسی حالت میں رہا اور اس عقیدہ کو ثابت کرنے کے لئے خدا کو جس کا رحم دنیا کے ہر انتظام میں نظر آرہا ہے رحم سے جواب دیا جاتا ہے اور ایک ادنیٰ انسان سے بھی اس کے اخلاق گرائے جاتے ہیں۔گویا ہم تو اپنے مجرموں کے گناہ معاف کرسکتے ہیں مگر وہ مالک ہوکر بھی معاف نہیں کرسکتا۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ خدا کی شریعت لعنت ہے گویا نوحؑ اورابراہیمؑ اورموسٰی اوردیگر انبیاء خدا کی لعنتیں لے کر دُنیا میں آئے تھے لیکن کوئی نہیں بتاتا کہ خدا کے کلام کا کونسا حصہ لعنت ہے؟کیا یہ لعنت ہے کہ کہا تھا کہ چوری نہ کر،زنا نہ کر اور کسی کو قتل نہ کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ کہا گیا تھا کہ جھوٹ نہ بول اورظلم نہ کر اور دوسروں کے حق نہ مار؟ یا یہ لعنت ہے کہ کہا گیا تھا کہ بد اخلاقی نہ کر اور غیبت نہ کر اور فساد نہ کر ؟ یا یہ لعنت ہے جو کہا گیا تھا کہ سچ بول اور لوگوں سے محبت کر اور گناہ گاروں کے گناہ معاف کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ بنی نوع انسان کی خیر خواہی کر اور خوش خُلقی سے پیش آ۔اور بیکسوں اور مسکینوں کو اپنے مال میں شریک کر؟ یا یہ لعنت ہے کہ صداقتوں سے پیا کر اور علوم کو حاصل کر اور ایک خدا کی پرستش کر اور اس کا شریک کسی کو قرار نہ دے؟ یا یہ لعنت ہے کہ ہر ایک ظالم سے مظلوم کے حقوق دلوائے جائیں۔شریروں کو دوسروں پر ظُلم نہ کرنے دیا جائے؟ آکر وہ کونسا حکم شریعت کا لعنت ہے جس سے مسیح علیہ السلام نے آکربچا لیا ؟ کیا پھر خدا تعالیٰ کی عبادات یا بعض احتیاطیں کھانے کے متعلق لعنت ہیں؟ کیا فریسی اور فقیہی لوگ اورپہلے لوگ ان عبادتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے یا ان کھانوں کے کھالینے کے سبب سے خدا کے مغضوب ہوئے تھے؟ کہ ان کو دُور کرکے مسیح علیہ السلام نے دنیا کو لعنت سے بچا لیا؟ مسیح علیہ السلام تو خود مانتے ہیں کہ عبادات کے احکام وہ خوب بجا لاتے تھے اور کھانے بھی وہ شریعت کے مطابق کھاتے تھےپھر ان احکام کی خلاف ورزی تو ان کو جہنم میں لے جانے کا باعث نہیں ہوسکتی تھی