انوارالعلوم (جلد 6) — Page 505
وہ کوئی نشان دیکھیں تو چاہئے کہ وہ بھی اور ان کے ساتھ بھی حق کو قبول کریں مگر چونکہ آپؑ کے دشمنوں کی غرض حق کا معلوم کرنا نہ تھی بلکہ حق کو مشتبہ کرنا تھی ان دونوںتدبیروں میں کسی ایک تدبیر کو بھی انہوں نے اختیار نہ کیا کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر کوئی نشان ظاہر ہوا تو ہم عوام الناس کو کیا کہہ کر روکیں گے؟ اور پھر اس کی ترقی میں کیا شبہ رہ جائے گا؟ پس ہر ایک طریق فیصلہ جو آپؑپیش کرتے وہ اس سے کسی نہ کسی بہانہ سے گریز کرتے تھے اور مقابل پر نہ آتے تھے۔۱۸۹۶ ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ ؑکی صداقت کے اظہار کا ایک خاص موقع نکال دیا اور وہ یہ کہ اس سال لاہور میں ایک مذاہب کی کانفرنس بیٹھی اوربعض سوال مقر ر کرکے سب مذاہب کے علماء سے چاہا گیا کہ وہ ان کے متعلق اپنے اپنے مذاہب کے خیالات کا اظہار کریں۔آپؑکو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی اور آپؑنے باوجود بیماری کے اس کے لئے مضمون لکھا جس کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ وہ مضمون سب مضامین سے بالا رہے گا۔چنانچہ اس پیش گوئی کے متعلق اشتہار چھاپ کے لاہور کی گلیوں میں جلسہ سے پہلے ہی لگا دیا گیا۔اس کانفرنس کی وجہ سے ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ٹھنڈے دل سے آپؑ کے خیالات کو سُنا اورسب نے اقرار کیا کہ سب مضامین میں سے آپ کا مضمون بالا رہے گا۔چنانچہ اس پیش گوئی کے متعلق اشتہار چھاپ کے لاہور کی گلیوں میں جلسہ سے پہلے ہی لگا دیا گیا۔اس کانفرنس کی وجہ سے ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ٹھنڈے دل سے آپ ؑکے خیالات کو سُنا اورسب نے اقرار کیا کہ سب مضامین میں سے آپ کا مضمون بالا رہا اور اخبارات میں اس کے متعلق مضامین گئے اور اس قدر دلچسپی کا لوگوں نے اظہار کیا کہ بوجہ وقت کی کمی کے جلسہ کا ایک دن اوربڑھا یا گیاتا آپ ؑکا بقیہ مضمون جو قت مقررہ کے اندر ختم نہیں ہوسکا تھا پڑھا جاسکے۔نشان پر نشان اور کرامت پر کرامت ظاہر ہونے سے لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا ہونے لگا اور چاروں اطراف سے حق پسند لوگ آآکر آپ ؑکی جماعت میں شامل ہونے لگے جسے دیکھ کر مخالف علماء کو اوربھی فکر پڑی اور چونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ ان کی پہلی کوششوں میں ان کو ناکامی ہوئی تھی کیونکہ وہ جو ایذائیں آپؑکو پہنچانی چاہتے تھے بوجہ گورنمنٹ کے ظاہر طور پر نہیں پہنچا سکتے تھے۔اوراخفاء اور ڈر سے تمام تدابیر اُدھوری رہ جاتی تھیں۔اس لئے انہوں نے یہ تدبیر نکالی کہ گورنمنٹ کی ہی عدالتوں میں آپ کو گھسیٹ کر لے جاویں اور اسی کے ہاتھ سے آپ کو سزا دلوائیں۔چنانچہ سب سے پہلے مسیحیوں نے آپؑپر مقدمہ کھڑا کیا اور یہ سمجھ لیا کہ چونکہ گورنمنٹ ہماری ہم مذہب ہے عدالتوں میں ہماری رعایت کی جائے گی۔ایک بڑے پادری صاحب نے یہ