انوارالعلوم (جلد 6) — Page 446
جرم کیا ہے بلکہ اس کے حالات اور مجبوریوں کو بھی دیکھے اور اندھا دھند فیصلہ نہ کرے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ ہر کمزوری کی وجہ کو مد نظر رکھتا ہے مثلاً ایک شخص جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعودؑ کا پتہ نہ ہو خدا کا قانون اسے کافر تو قرار دے گا۔مگر خدا تعالیٰ اسے اس وجہ سے سزا نہیں دے گا کیونکہ بوجہ علم نہ ہونے کے اس کے لئے ناممکن تھا کہ ایمان لاسکے۔سفارش نہ سنو چھٹی بات خدا تعالیٰ یہ کرتا ہے کہ کسی کے خلاف کسی کی سفارش نہیں سنتا تمہارے لئے بھی ضروری ہےکہ کسی کے کہنے پر کسی کے متعلق فیصلہ نہ کرو تمہیں خودخدا نے جج بنایا ہے تم کسی کی کیوں سنو۔ہر فیصلہ میں رحم کا پہلو غالب ہو ساتویں بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا امور کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنے کے باوجود خدا تعالیٰ جب فیصلہ کرتا ہے تو اس میں رحم کا پہلو غالب رہتا ہے۔ذرا گنجائش نکل آئی جھٹ معاف کردیا تمہیں بھی کسی کی بُرائی معلوم ہو جو ادنیٰ اور معمولی ہو تو برائی کا فیصلہ ہی نہ کرو بلکہ اس کی نیکیوں کو دیکھ کر حتّی الوسع اس کی طرف نیکی منسوب کرو۔صفت مالکیت پیدا کرنے کا نتیجہ یہ سات باتیں ہیں جن کا خیال خدا تعالیٰ صفت مالکیت کے اظہار کے وقت رکھتا ہےاگر بندہ بھی ان کو مدّ نظر رکھے تو آہستہ آہستہ اس کے اندر صفت مٰلک یوم الدین قائم ہوجائے گی اور اسے خدا تعالیٰ سےایک مشابہت حاصل ہوجائے گی۔جب بندہ یہ استعداد پیدا کرلیتا ہےتو وہ مادہ کی طرح ہوجاتا ہے گویا اس میں ترقی کرنے کی قابلیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس وقت خدا تعالیٰ کی صفت مٰلک یوم الدین جو اس درجہ کے آدمی کے لئے منبع فیض ہے اس پر اپنا پَر تَو ڈالتی ہے اور اس کی روح میں نئی طاقتیں پیدا کردیتی ہے حضرت مسیح موعود ؑنےجو لکھا ہے کہ مَیں پہلے مریم بنا اورپھر عیسیٰ بنا اس کا یہی مطلب ہے کہ آپؑکے اندر پہلے خدا تعالیٰ کی صفات کا اثر قبول کرنے کی قابلیت پیدا ہوئی بعد میں خدا تعالیٰ کے بالمقابل صفت کے اتصال سے نئی قوتیں حاصل ہوئیں جو عیسویں قوتوں سے مشابہ تھیں یا اس حالت کی مثال تیار شدہ زمین کی سمجھ لو۔جب سالک کی حالت اسطرح کی ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کی مٰلک یوم الدین والی صفت اس پر اثر ڈالتی ہے بعینہٖ اسی طرح جس طرح مرد عورت ملتے ہیں یا زمین اور بیج ملتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی صفات ایسی نہیں کہ وہ کس پر پَرتَو