انوارالعلوم (جلد 6) — Page 423
اس وقت ان کو جہنم میں گرا دیا جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّيُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ تَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ۰ۭ وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ(القلم: ۴۳،۴۴) اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت الٰہی کے دو مدارج تو ایسے ہیں کہ ان میں منافق بھی خدا کو دیکھ سکیں گے لیکن تیسری تجلی کی جو حقیقی تجلی تھی وہ برداشت نہ کرسکیں گے۔خدا تعالیٰ کی رؤیت کے مختلف مدارج کا ثبوت حدیث سے پھر دوسری حالت کے متعلق آتا ہے کہ جب مؤمن جنت میں داخل ہوجائیں گے تو آواز آئے گی کہ خدا نے تم سے جتنے وعدے کئے تھے وہ سب پورے کردئیے صرف ایک وعدہ باقی ہے جنتی کہیں گے خدا نے تو ہم سے سارے وعدےپورے کردئیے اور کیا باقی ہے؟ وہ کہے گا کہ مَیں نے اپنے آپ کو ابھی تمہیں دکھانا ہے یہ وعدہ باقی ہے حالانکہ تین دفعہ وہ پہلے دیکھ آئے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ رؤیت کے اس قدر مدارج ہیں کہ بعض رؤیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے ادنیٰ درجہ کی رؤیتیں رؤیت کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہوتیں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تین رؤیتوں کے بعد اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ابھی میر ارؤیت والا وعدہ پورا نہیں ہوا۔رؤیت الٰہی کے حصول کا طریق اس دنیا میں رؤیت الٰہی کے حصول کا طریق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی جتنی زیادہ صفات انسان جمع کرے اتنا ہی زیادہ جلوہ دیکھتا ہے اور چونکہ مؤمن کا درجہ بڑھتا جاتا ہے اس لئے اس کی رؤیت بھی بڑھتی جاتی ہے اور جو رؤیت اگلے جہان میں ہونے والی ہے وہ بھی ترقی کرتی چلی جائیگی بعض کو تو اس دنیا کے ہفتہ کے عرصہ میں خدا تعالیٰ دوسرا جلوہ دکھائے گا یعنی بعض ایسے لوگ جنت میں ہوں گے کہ جن کی روحانیت صرف اس درجہ تک ترقی یافتہ ہوگی کہ وہ روحانی ترقی کا اگلا جہان ایک ہفتہ میں طے کرسکیں گے اس لئے ان کو ہر دوسری رئویت ایک ہفتہ کے بعد ہوگی اور جو ان سے بڑھ کر ترقی یافتہ ہوں گے انہیں صبح بھی دیدار ہوگا اور شام کو بھی اور اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اگر صبح انہیں ایک روحانی درجہ حاصل تھا تو شام کو اور درجہ حاصل ہوگا اوراگلی صبح اوردرجہ حاصل ہوگا۔ممکن ہے کہ اس سے بڑے مدارج کے لوگ بھی ہوں جن کو اس سے بھی کم عرصہ روحانی ترقی کے حصول میں لگے لیکن حدیث سے اسی قدر معلوم ہوتا ہے۔