انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 408

اپنی مرضی سے رُکتا ہے۔سو اس مشابہت سے بتایا کہ خدا تعالیٰ تھک کر اپنی صفات کو نہیں چھوڑتا اورنہ اس میں نئی طاقت آجاتی ہے تو ان کو جاری کرتا ہے بلکہ اپنی مرضی سے اوراپنی خاص حکمت سے صفات کو جاری کرتا یا روکتا ہے۔تیسری بات اس مشابہت سے یہ بتائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات قہریہ ہمیشہ روحانی تاریکی کے وقت جاری ہوتی ہیں (کیونکہ یہ الہام صفات قہریہ کے متعلق ہے) اوریہ صفات روحانی صفائی پیدا ہونے پر روک لی جاتی ہیں کیونکہ صوم یعنی رُکنے کا وقت نور کے شروع ہونے سے شروع ہوتا ہے اور افطار ظلمت کے شروع ہونے ہے۔تو گویا اس مشابہت کےذریعہ سے حضرت مسیح موعودؑکو اس الہام میں عذاب کے متعلق بتایا گیا کہ جب نیکی اور تقویٰ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب دینے کی صفات کو روک دیتا ہے اورجب ظلمت اور تاریکی پھیل جاتی ہے لوگ گناہوں اور بدکاریوں میں بکثرت مبتلاء ہوجاتے ہیں تو ان صفات کو چھوڑ دیتا ہے تا کہ لوگ تباہ و برباد ہوں۔اب دیکھو کتنی وسیع اورپُر حکمت تعلیم اس میں بیان کی گئی ہے کہ جب نُورجاری ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ عذاب کی صفتوں کو روک دیتا ہے اور جب بدی پھیل جاتی ہے تو ان کو کہہ دیتا ہے کہ اب تمہارا دور جاری ہوجائے۔الہام مسیح موعودؑکے ایک اور معنے پھر خدا کی صفت خلق قائم مقام نور ہے اور عدم قائم مقام ظُلمت۔چنانچہ عربی میں خلق کو فلق بھی کہتے ہیں اور فلق کے معنے پو پھٹنے کے ہیں۔گویا مخلوق بھی نور ہوتی ہے او ر عدم کیا ہوتا ہے؟ کچھ نہ ہونا۔اب ہونا تو روشنی ہوئی اورنہ ہونا اندھیرا۔اس لئے اُفْطِرُوَاَصُوْمُ کے یہ معنی ہوئے کہ خدا کی بعض صفات ایسی ہیں جو عدم کے وقت جاری ہوتی ہیں اوربعض وجود کے وقت جیسے کہتے ہیں کہ اب مادہ کو خدا کیوں نہیں پیدا کرتا اس لئے کہ جب عدم تھا تو خدا تعالیٰ کی مادہ کو پیدا کرنے کی صفت جاری ہوگئی اورجب وجود میںآگیا تو اب مخلوق کے قائم رکھنے کی صفات جاری ہوگئیں۔تو یہ کتنا بڑا علم ہے جو حضرت مسیح موعودؑکے اس الہام سے ظاہر ہوا۔اب دشمن اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا بھی کھانا کھاتا ہے کہ اس نے چھوڑ دیا۔ہم کہتے ہیں معترض نادان ہیں جو خدا کے کلام کے معارف نہیں جانتے۔خدا تعالیٰ نے ایسا علم حضرت مسیح موعودؑکےذریعہ دیا ہے اور آپؑنے غوامض بیان فرمائے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں