انوارالعلوم (جلد 6) — Page 397
اورنہ غذا ہی کافی ملے اور یہی لوگ جو ان امور کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کے رحم پر اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ کو بُرا بھلا کہنے لگ جائیں کہ ہمارے باپ دادوں کو دفعہ بھی نہیں کرتا کہ کہیں گھر خالی ہوں اور ہم اپنےسر چُھپائیں اور روٹی پیٹ بھر کر کھانے کو ملے۔پھر میں کہتا ہوں اگر دُنیا کی موجودہ حالت فی الواقع تکلیف دہ ہے تو خود کشی کا دروازہ کُھلا ہے کیوں ایسے معترض یا دوسرے لوگ خود کشی نہیں کرلیتے؟ مگر کس قدر لوگ ہیں جو اس فعل پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور جو اس فعل کے مرتکب ہوتے بھی ہیں تو انہیںد نیا کیا کہتی ہے؟ یہی نہ کہ وہ عارضی طور پر پاگل ہوگئے تھے اگر فی الواقع یہ دنیا تکلیف ہی کی جگہ ہے تو خود کشی کرنے والے پاگل نہیں بلکہ سب سے زیادہ عقلمند ہیں جو ایک منٹ میں اپنی تکلیفوں کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔پس خودکشی نہ کرنے اور خود کشی کرنے والوں کو پاگل سمجھنے سے معلوم ہوا کہ باوجود ان شبہات کے یہ معترض بھی یہی چاہتے ہیں کہ اور جئیں مگر جب دل کی یہ حالت ہے تو پھر اعتراض کیوں کرتےہیں؟ غرض یہ سب باتیں انسان کے لئے ضروری ہیں اوران پر اعتراض کرنا لغو یت ہے یہ نہ تو اس لئے ہیں کہ خدا کی طاقت محدود ہے اورنہ تناسخ ان کا موجب ہے بلکہ ان سب میں خدا تعالیٰ نے حکمتیں رکھی ہیں۔مصائب پر افسوس کیوں کیاجاتا ہے؟ پچھلے بیان پر معترضین ایک اور اعتراض کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر یہ درست ہے کہ یہ سب امور حکمت پر مبنی ہیں اوران کے بغیر دنیا کا گزارہ نہیں ہوسکتا تھا توپھر جب کسی گھر میں ماتم ہوجاتا ہے تو گھر والے خوشی کیوں نہیں مناتے اورتکلیف کیوں محسوس کرتے ہیں؟ اسی طرح جب کوئی بیمار ہوجائے تو خوش کیوں نہیں ہوتے رنج کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ نہیں کہا کہ بیماری سے تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ہم تو یہکہتے ہیں کہ اگر بیماری کے اسباب کو مٹا دیا جاتا تو پھر جو کچھ ہوتا وہ تکلیف دہ ہوتا۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ جو شخص بیمار ہوتا ہے اسے آرام ملتا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا قانون بنایا جاتا جس سے بیماری دور ہوجاتی تو وہ یا انسان کو محض مجبور بنا دیتا اور یہ نہیں ہوسکتا تھا اوریا پھر اس کے حسوں کو باطل کر دیتا جو بیماری کی نسبت ہزار ہا درجے زیادہ ناقابل برداشت ہوتا۔پس ان ترقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو موجودہ قانون کی وجہ سے انسان کے سامنے ہیں بیماریاں تکلیف وغیرہ سب ایک رحمت ہیں یا