انوارالعلوم (جلد 6) — Page 383
اس لئے محققین نے پیدائش عالم کے متعلق اور زیادہ وضاحت کی ہے اورآخر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عدم کے آئینہ پر اپنی صفات کا انعکاس ڈالا اور اس سے مخلوق پیدا ہوئی۔اس گروہ نے بہت حد تک الحاد کو دُور کیا ہے مگر اس پر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ انعکاس کس چیز پر ہوتا ہے۔عدم کوئی چیز نہیں جس پرانعکاس ہو۔اس عقیدہ کے پیش کرنے والے بڑےپائے کے لوگ ہیں۔معلوم ہوتا ہے ان پر حقیقت کھلی ہے مگر یا اسے بیان نہیں کرسکے یا اسے استعارہ میں مخفی کردیا ہے۔پانچواں عقیدہ پانچواں عقیدہ یہ ہے کہ دنیا خدا کاغیر ہے لیکن اس کی غیر ت اس قسم کی نہیں جس قسم کی کہ انسانی ذہن میں آیا کرتی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جو کچھ دنیا میں ہے یہ خدا تعالیٰ کے علم اور اس کے ارادہ سے پیدا ہوا ہے نہ نیست سے ہوا ہے کہ نیست کوئی یز نہیں اور نہ ہست سے ہوا ہے کہ خدا کے سوا اور کوئی چیز قائم بالذات نہیں بلکہ جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اس قسم کی چیز جو اس کے علم میں تھی۔ظاہر ہوجائے پس اس کی قضاء الٰہی سے ظاہر ہوئے۔باقی رہی پوری کیفیت سو کوئی چیز جب تک غیر حادث نہ ہو اپنی پوری کیفیت کو سمجھ ہی نہیں سکتی پس انسان کا یہ خیال کہ وہ اس حقیقت کو پوری طرح پالے گا ایک خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔پہلے عدم تھا پھر مخلوق پیدا ہوئی اصل میں سارے شبہات اس بات سے پیدا ہوتے ہیں کہ عدم سے وجود کس طرح ہوجاتا ہے۔مگر کہیں قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ عدم سے وجود ہوگیا۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں نہ تھیں اورپھر پیدا ہوگئیں۔عدم سے پیدا ہوگئیں۔یہ ایک فقرہ ہے جس سے دھوکا لگتا ہے حالانکہ جو لوگ واقف ہیں وہ کبھی اس کے یہ معنی نہیں لیتے کہ عدم سے گھڑ کروجود بنا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ پہلے نہ تھیں پھر ہوگئیں۔آریہ مذہب بھی اس اس دھوکے شکار ہورہا ہے کہ جب مادہ نہیں تھا تو خدا نے مخلوق کو پیدا کس طرح کیا؟ اس لئے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مادہ کو پیدا نہیں کیا۔مگر یہ استدلال بالکل غلط ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا بندوں کی صفات پر قیاس کرنا ہی غلط ہے۔کوئی انسان بغیر آنکھ کے نہیں دیکھ سکتا۔خدا تعالیٰ بغیر آنکھوں کے دیکھ سکتا ہے۔کوئی چیز دنیا میں مادہ کے بغیر نہیں بن سکتی۔