انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 331

زار ہوا اور کس طرح حضرت مسیح موعودؑ کی یہ پیشگوئی کہ زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار ‘‘ ہیبت ناک طور سےپوری ہوئی۔اس صفت کے متعلق ایک چھوٹا سا تجربہ اپنا بھی سنا دیتا ہوں۔ہماری جماعت کے ایک ڈاکٹر ہیں ان کے متعلق خبر آئی کہ وہ بصرہ کی طرف مارے گئے ہیں۔اس خبر کے آئے چند روز ہی پہلے ان کے والد اور والدہ قادیان بغرض ملاقات آئے تھے۔مَیں نے ان کو دیکھا کہ وہ بہت ہی ضعیف تھے۔ج س وقت مَیں نے یہ خبر سنی میری اانکھوں کے سامنے ان کے ضعف کا نقشہ کھنچ گیا اور ساتھ ہی یہ خیال غزرا کہ ڈاکٹڑ صاحب ان کے اکلوتے بیٹے ہیں (گو بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے اور بھی بیٹے تھے) اور میرے دل کو اس غم کا خیا ل کرکے جو ان کو پہنچا ہوگا سخت تکلیف ہونی اور بار بار میرے دل میں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ کاش وہ نہ مرے ہوں،گو بظاہر یہ خیال بیوقوفی کا ہو مگر میں سمجھتا ہوں الٰہی تحریک کے ماتحت اور دُعا کرانےکی غرض سے تھا۔خیر جب میں رات کو سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ تین دن ہوئے ہیں کہ وہ زندہ ہوگئے ہیں۔مَیں نے دوسرے دن کھانے کے وقت اپنے بعض عزیزوں کو یہ خواب سنائی میرے چھوٹے بھائی نے کہ جن کی ڈاکٹڑ صاحب کے ایک رشتہ کے بھائی سے دوستی تھی اور جو قادیان میں رہتے ہیں۔اس خواب کا ذکر کر دیا۔ناہوں نے اپنے گھر اطلاع کردی اس کے جواب میں ان کو خط ملا کہ ان کی خواب پوری ہوگئی ہے۔عراق سے اطلاع آگئی ہے کہ ان کی موت کے متعلق غلطی لگی تھی ان کو بدو پکڑ کرلے گئے تھے اور غلطی سے یہ خیال کر لیا گیا کہ وہ مارے گئے ہیں لیکن بعد میں ایک موقع ملنے پر وہ بھاگ کر خیریت سے واپس آگئے ہیں۔اسی قسم کا ایک ذاتی تجربہ میں بیان کرتا ہوں۔گذشتہ سال کے سفرِ کشمیر میں مَیں نے دیکھا کہ ایروپلین کے ذریعہ میرے پاس ایک خط آیا ہے۔مَیں نے یہ خواب دوستوں کو سنائی اورپھر خود بھول گیا۔چند ہی دن بعد ایک خط آیا جس پر لکھا تھا BY AIRFORCEاور اسے دیکھ کر میاں عبدالسلام صاحب حضرت خلیفہ اوّل کے صاحبزادے نے وہ رئویا یاد دلائی۔یہ تو خدا تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کی مثالیں ہیں۔اس کے سوا اقتداری علم بھی ہستی باری کے دلائل میں سے ایک دلیل ہے۔اقتداری علم کی بری مثال خود قرآن کریم ہے۔اس کے متعلق دعویٰ ہے کہ کوئی ایسا کلام بنا کر نہیں لا سکتا بلکہ اس جیسی تین آیات بھی بنا کر پیش نہیںکرسکتا۔قرآن کریم انہیں الفاظ میں ہے جن کو سب استعمال کرتے ہیں اور عربی بولنے والے لوگوں میں اسلام کے دشمن *تذکرہ ص ۵۴۰ ایڈیشن چہارم