انوارالعلوم (جلد 6) — Page 17
تیار ہیں۔اگر ہم آہنگر یا زمیندار یا سنار سے اس کے کام کے متعلق گفتگو کریں تو وہ اپنے اپنے کام کی تشریح کرکے بتائیں گے۔مگر ایک ہندو ایک عیسائی ایک مسلمان اپنے مذہب کی حقیقت نہیں بتا سکتا۔کیوں؟ مذہب سے اتنی بے خبری کیوں؟ اصل بات یہ ہے کہ لوگ مذہب کو مانتے ہیں سماعی طور پر اور اس میں ان کو ظاہری فائدہ کوئی نظر نہیں آتا اس لئے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اگر وہ غور کریں اور ان لوگوں کی طرف توجہ کریں جو مذہب کا کچھ فائدہ بتاتے ہیں تو ان کو حقیقت معلوم ہو۔مگر وہ جن کے پاس جاتے ہیں وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اگلے جہاں میں اس مذہب کے بدلے میں یہ ثواب ملے گا وہ ملے گا اس زندگی میں مذہب کا کوئی نتیجہ نہیں۔حالانکہ لوگوں کی نظروں میں اگلا زمانہ خود مشتبہ ہے جب اگلے جہاں پر لوگوں کو یقین نہیں معلوم ہوتا تو پھر کیسے اگلے جہاں میں کچھ ملنے کے خیال پر کوئی شخص کسی مذہب کے لئے غور و فکر و محنت اور توجہ سے کام لے سکتا ہے۔پس کسی مذہب کو ماں باپ سے سُنے ہوئے پر کفایت نہ کریں بلکہ مسلمان سوچیں کہ وہ کیوں مسلمان ہیں۔ہندو غور کریں کہ وہ کیوں ہندو ہیں۔عیسائی فکر سے کام لیں کہ وہ کیوں عیسائی ہیں تو فتنے بہت کم ہوجائیں۔اختلاف مٹ جائیں اور حقیقت ان کے قریب ہوجائے۔جب لوگ اس طرح غور کریں گے تو ان کا جو جواب ہوگا وہ قابل توجہ ہوگا اب تو لوگ ڈرتے ہیں۔اس لئے کہ اگر ایک مسلمان انگریزی پڑھا ہوا آزاد خیال یہ سوال محلہ کی مسجد کے مولوی صاحب کے پاس لے جائیں وہ تو بجائے اس کو معقولیت سے سمجھانے کے پہلے اس کو کافر اور مُرتد قرار دیدگے گا اور کھانے کو دوڑے گا۔اس صورت میں بھلا کوئی شخص کس طرح مذہب کی حقیقت کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے اور یہی حال دیگر مذاہب کے لوگو ں اور ان کے پنڈتوں اور پادریوں کا ہے۔مَیں کہتا ہوں کہ اس بات کی آزمائش کیلئے کہ لوگ اپنے اپنے مذہب سے ناواقف ہیں۔اسی شہر کے لوگوں سےپوچھا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے کیوں پابند ہیں تو سو فیصد ایسے نکلیں گے جو سوائے اس کے کچھ نہیں جواب دینگے کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں بتایا ہے یا ہمارے مولوی ،پنڈت یا مہنت یہ کہتے ہیں یا ہماری مذہبی کتابوں میں یوں لکھا ہے اور وہ خیال کرینگے کہ یہ ہمارا جواب درست ہے۔حالانکہ یہ جواب غلط اور ناقابل التفات ہوگا۔مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر سب سے پہلے توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر خدا ہے تو اس