انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 249

جس میں مولوی سیّد محمد احسن صاحب نے نبوت مسیح موعودؑپر خوب زور دیا اور مولوی محمد علی صاحب سے بحث کی۔اور مَیں اُمید کرتا ہوں کہ اگو مولوی محمد علی صاحب کو حلف دی جاوے تو وہ کبھی اس سے انکار نہ کریں گے۔مگر مَیں نے اس بحث سے روک دیا کہ یہ وقت اس بحث کا نہیں۔اس وقت جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی فکر ہونی چاہئے۔جب سلسلہ گفتگو کس طرح ختم ہونا نظر نہ آیا۔اورباہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حضرالوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہوگیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کرسکتے۔آپ لوگ کسی امر کو طے نہیں کرتے اورجماعت اس وقت تک بغیر کسی رئیس کے ہے تو میں نے مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ بہتر ہے کہ باہر چک کر جو لوگ موجود ہوں ان سے مشورہ لے لیاجاوے۔اس پر مولوی محمد علی صاحب کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ آپ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ وہ لوگ کسے منتخب کرینگے اس پر مَیں نے ان سے کہا کہ نہیں میں تگو فیصلہ کر چکا ہوں کہ آپ لوگوں مین سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں ی ارائے ہے یعنی وہ آپ خو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس پر مَیں اتفاق سے مایوس ہوگیا اور مَیں نے سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اَور ہے کیونکہ باوجود اس فیصلہ کے جو مَیں اپنے دل میں کرچکا تھا مَیں نے دیکھا کہ یہ لو گ صلح کی طرف نہیں آتے اورمولوی صاحب کے اس فقرہ سے میں یہ بھی سمجھ گیا کہ مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے اور یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے چھ سال پہلے وہ اعلان کرچکے تھے کہ :- ’’مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المہاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب سے اعلم اور اتقی اور حضرت امامؑکے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں۔اورجن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اُسوۂِ حسنہ قرار فرماچکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چہ خو ش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بُودے ہمیں بودے اگر ہر دل پراز نُور یقیں بُودے سے ظاہر ہے کہ ہاتھ پر احمدؑکے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر