انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 244

کے ایک مضمون سے جس میں غلطی سے ڈائری نویسی نے ان کی طرف اشارہ کردیا تھا باوجود اس کی تردید ہوجانے کے انہوں نے اس کو تشہیر دیکر اپنی مظلومیت کا اظہار شروع کر رکھا ہے۔خدا تعالی سے طلب امداد غرض جس وقت یہ ٹریکٹ مَیں نے پڑھا۔میں حیران ہوگیا اور میں نے فتنہ کو آتا ہوا دیکھ لیا اور سمجھ لیا کہ مولوی محمد علی صاحب بغیر تفریق کے راضی نہ ہوں گے۔ایسے وقت میں ایک مؤمن سوائے اس کے اور کیا کرسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور گرجائے اور اس سے مدد طلب کرے۔مَیں نے بھی ایسا ہی کیا اور خود بھی دُعا میں لگ گیا۔اور دوسرے لوگ جو اس کمرہ میں میرے ساتھ تھے ان کو جگایا اور ان کو اس ٹریکٹ سے آغاہی دی اور ان کوبھی دعا کے لئے تایکد کی۔ہم سب نےدُعائیں کیں اور روزے رکھے اور قادیان کے اکثر احمدی جو میرے ہم خیال تھے اس دن روزہ دار تھے۔حضرت خلیفہ اوّل سے آخری وقت میں مولوی محمد علی صاحب کا نہایت سنگدلانہ سلوک مولوی محمد علی صاحب کا یہ ٹریکٹ انکے باطنی خیالات پر بہت کچھ روشنی ڈالتا ہے۔مَیں نے بتایا ہے کہ کس طرح اس ٹریکٹ کی خاطر انہوں نے مجھ سے دھوکا کیا۔مگر مَیں اب اس سلوک کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو اس ٹریکٹ کی اشاعت سے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے کیا۔سنگدل سے سنگدل آدمی بھی جب اپنے کسی عزیز کو بسترِ مرگ پر دیکھتا ہے تو اس سے دھوکا کرنا پسند نہیں کرتا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے کیا سلوک کیا؟ آپ نے اپنی وصیت لکھ کر مولوی محمد علی صاحب کو دی اور ان سے تین بار پڑھوائی اورپھر دریافت کیا کہ کیا کوئی بات رہ تو نہیں گئی اورانہوں نے اقرار کیا کہ نہیں بالکل درست ہے۔یہ وصیت صحت میں نہیں لکھی گئی بلکہ بیماری میں اور عین اس وقت جبکہ دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے زندگی کی اُمید بالکل منقطع ہوچکی تھی۔یہ وصیت صحت میں نہیں لکھی گئی بلکہ بیماری میں اور عین اس وقت جبکہ دنیاوی سامانوں کے لحاظ سے زندگی کی اُمید بالکل منقطع ہوچکی تھی۔یہ وصیت اس وقت لکھی گئی جبکہ اس جماعت کو جسےچھ سال سخت تکلیف کے ساتھ خطرناک سے خطرناک ابتلاؤ کی آندھیوں اورطوفان سے بچا کر آپ کی کامیابی کے راستہ پر لے جارہے تھے آپ چھوڑنے والے تھے اور اس کی آئندہ بہتری کا خیال سب باتوں سے زیادہ آپ کے پیش نظر تھا۔