انوارالعلوم (جلد 6) — Page 6
محسوس نہ ہوتی تھی لیکن آج جب ریل آگئی ہے تو جس گورنمنٹ میں نہ ہو اس پر اعتراض ہوتا ہےکہ یہ ضرورت کی چیز اس میں نہیں یا ڈاک کا جب ایسا انتظام نہ تھا تو اس کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی تھی مگر جب ہوا تو جہاں نہ ہو وہاںا عتراض ہوتا ہے۔اسی طرح جب تک خدا نہیں ملتا۔اور انسان اس کے بغیر اپنی زندگی کو اچھی طرح نہیں گزارسکتا۔پس مذہب کی ضرورت کا سوال خدا کی ہستی سے وابستہ ہے اگر خدا ہے تو مذہب کی بھی ضرورت ہے۔خدا کی ہستی کا ثبوت اب سوال ہوتا ہے کہ خدا کا کیا ثبوت ہے اور اگر ہے تو اس کا ہم پر کیا اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ بات مُسلّمہ ہے کہ ہر چیز کا اثرلازمی ہے۔اورخدا کا بھی اثر ہونا چاہئے۔چنانچہ ایک امریکن سائنس دان نے لکھا تھا کہ اگر خدا ہے تو اس کو ماں باپ سے زیادہ مہربان ہونےکےباعث ہم پر ماں باپ سے زیادہ مہربانی کاا ظہار کرنا چاہیے۔وہ ہم سے بولے یہ اس کا صحیح فطرتی مطالبہ تھا۔پس اگر خدا ہے اور اس نے ہمیں پیدا کیا ہے تو ہمیں اس کا ثبوت بھی ملنا چاہیے ورنہ اگر اس کا ہم سے تعلق نہیں تو اس کی عبادت بے معنی بات ہوگی لیکن یہ واقعہ ہےاور جیسا کہ مَیں پہلے بتا چکا ہوں۔خدا ہے اور ایسا ہے جو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو انعام دیتا اور جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں ان کو سزا دیتا ہے۔وہ اپنی صفات کا اظہار کرتا ہے۔گونگا نہیں۔وہ اپنے بندوںکو اپنی رضا کی راہیں بتاتا ہے۔جس قدر مذاہب ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بانیوں سے خدا نے مکالمہ کیا۔سکھ اپنے گوروؤں کو پیش کرتے ہیں۔اور دیگر مذاہب والے اپنے بزرگوں کو۔مگر سب اپنے گزشتہ بزرگوں کو پیش کرتے ہیں۔مسلمان بھی مانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا نے کلام کیا اور مسلمان مانتے رہے ہیں کہ خدا اپنے پیاروں سے باتیں کرتا ہے مگر تھوڑے عرصہ سے ان میں یہ غلطی آگئی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا خدا نے اب بولنا چھوڑ دیا ہے۔اسلام کی فضیلت دیگر مذاہب پر سب مذاہب کے پیروؤں کا اپنے مذہب کی ابتداء میں ماننا کہ خدا کلام کرتا تھا اوراب اس سے انکار کرنا بتاتا ہے کہ وہ مذاہب اپنی اصلی حالت پر نہیں رہے۔لیکن اسلام اب بھی وہ بات پیش کرتا ہے جو مذہب کا مغز اور تمام مذاہب کا طُغرائے امتیاز رہا ہے یعنی مکالمہ الٰہیہ۔چنانچہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کےذریعہ خدا نے اپنا کلام دُنیا میں پیش کیا اور آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ بند نہیں ہوا۔بلکہ