انوارالعلوم (جلد 6) — Page 168
خُدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی معزول نہیں کرسکتا اب مَیں ان الزامات کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔جن کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ مولوی سیّد محمد احسن صاحب نے مجھے خلافت سے معزول کیا ہے۔گو ضمناً میں اس قدر کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خلیفہ خُدا ہی بناتا ہے اور اسی کی طاقت ہے کہ معزول کرے۔کسی انسان میں نہ خلیفہ بنانے کی طاقت ہے نہ معزول کرنے کی۔پس نہ تو میں مولوی سیّدمحمد احسن صاحب کےذریعہ سے خلیفہ بنا اوران کے معزول کرنے سے معزول ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے معزول کرنے کے بعد مجھے اور بھی ترقی عطا ہوئی اور ہو رہی ہے۔اس وقت کے بعد اس وقت پندرہ بیس ہزار آدمی نیا سلسلہ میں داخل ہوچکا ہے اور ترقی روز افزوں ہے۔اَللّٰھُمَّ زِدْ فَزِدْ سید محمد احسن صاحب کا بربنا ء عقائد مجھ پر اعتراض درست سید صاحب نے جو اعتراضات مجھ پر کئے ہیں۔ان کے متعلق میں علمی بحث اس جگہ نہیں کروں گا اور نہ یہ ثابت کروں گا کہ وہ عقائد درست ہیں یا غلط کیونکہ عقائد کے متعلق مفصل بحث آگے چل کر کی جاوے گی۔اس جگہ مَیں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سیّد صاحب موصوف کا مجھ پر ان عقائد کی وجہ سے اعتراض کرنا درست نہیں۔وہ بیشک کہہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کی غلطی چونکہ ان پر ثابت ہوگئی ہے اس لئے وہ ان سے توبہ کرتے ہیں یا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان عقائد کے علاوہ کوئی اور عقائد بدعیہ میں نے وضع کئے ہیں اس لئے وہ میری بیعت توڑتے ہیں۔مگر ان عقائد کو نئے اور فاسد عقائد قرار دیکر میرے خلاف اعلان کرنا ان کا حق نہیں۔کیونکہ وہ اس سے بہت پہلے ان عقائد کے واقف تھے۔بلکہ جب میری بیعت ہئی ہے اسی وقت ان کو معلوم تھا کہ میرے یہ عقائد ہیں۔جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب اقرار کرچکے ہیں۔میرا مضمون کفر واسلام پر تشحیذ الاذہان اپریل ۱۹۱۱ء کے پرچہ میں شائع ہوچکا تھااور جیسا کہ وہ اقرار کرتے ہیں اس کے بعد بھی برابر میری طرف سے اس مسئلہ کے متعلق اظہار رائے ہوتا رہا۔پس جب حضرت خلیفہ اوّل کی زندگی میں غیر احمدیوں کو میں کافر قرار دے چکا تھا اور جماعت کا ہر ایک فرد اس مسئلہ سے آگاہ تھا تو مولوی سید محمد احسن صاحب نے میری بیعت کی ہی کیوں تھی اگر یہ عقیدہ ایسا ہے کہ اس کے باعث انسان خلافت کے قابل نہیں رہتا۔تو کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مسجد نُور میں کھرے ہو کر میری نسبت خلافت کی تجویز کی برے زور سےتائید کی اور اس پر تقریر کی۔ان کو تو چاہئے تھا کہ جب لوگوں نے میری بیعت پر زور دیا تھا تو وہ اس کو ردّ کردیتے اور فرماتے کہ یہ شخص تو مسلمانوں کو کافر کہتا ہے یہ خلافت کے لائق کیونکر ہوسکتا ہے۔کفر و اسلام کے مسئلہ پر تو مَیں نے بعد میں مفصل بحث کبھی کی ہی نہیں۔اصل مضمون جو