انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 147

دی۔چنانچہ مندرجہ ذیل واقعات اس امر کی کافی شہادت ہیں۔میرے مضمون کفر واسلام کے لکھے جانے کی وجہ اور اس کے تاخیراشاعت کا سبب مارچ ۱۹۱۱؁ء میں مَیں نے کفر واسلام غیر احمدیوں پر بدیں وجہ ایک مضمون لکھا کر غیر احمدیوں کی تحریک سے متأثر ہوکر بعض احمدیوں نے بھی بعض غیر احمدی اخبارات میں اس قسم کے اشارات شروع کئے کہ غیر احمدیوں اور احمدیوں میں کچھ فرق نہیں اور دونوں مسلمان ہیں۔اس خیال سے کہ یہ بد عقیدہ جماعت احمدیہ میں پھیل نہ جاوے۔مَیں نے ایک مضمون لکھا۔اور مارچ میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح کے پیش کیا کہ آپ اس کو دیکھ لیں۔چونکہ ااپ ان دنوں سخت بیمار تھے ایک مدت تک وہ مضمون آپ کے پاس پڑا رہا۔بعض اخبارات سلسلہ میں اس کی طرف قبل از وقت اشارہ کردیا گیا تھا۔اس لئے اس کے دیر تک حضرت خلیفۃ المسیح کے پاس پڑے رہنے پر خواجہ کمال الدین صاحب کے ہم خیال لوگوں نے عام طور پر مشہور کردیا کہ اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے سخت ناپسند کیا ہے۔چونکہ بیماری کی حالت میں یاد دہانی کرانا خلاف مصلحت تھا مَیں خاموش رہا۔اور قریباً ایک ماہ کے بعد جب حضرت خلیفۃ المسیح کی صحت کچھ اچھی ہوئی تو آپ نے اس مضمون کو دیکھا۔اور متعدد جگہ خود اپنے ہاتھ سے اصلاح کی۔جس وقت آپ اس کی اصلاح سے فارغ ہوئے۔مَیں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے وہ مضمون مجھے دیا اور فرمایا کہ میاں مجھے سختی ناپسند ہے۔آپ نوجوان ہیں مَیں بوڑھا ہوں (یا اسی مفہوم کے کوئی اور الفاظ تھے) اس وقت مجلس میں مولوی صدر الدین صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے نہ معلوم کس رنگ میں اس امر سےاپنے دوستوں کو لاہور اطلاع دی اور چند ہی دن میں عام طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس مضمون کو ناپسند کیا ہے۔حالانکہ اصل بات یہ تھی کہ اس مضمون میں چند اشارات بعض ایسے لوگوں کی طرف بھی تھے جو اس وقت جماعت میں شامل تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کی طرف اشارہ کو نا پسند کیا تھا تا فتنہ کا موجب نہ ہو۔اور ان فقرات کو کاٹ دیا تھا۔اورموجودہ مضمون اب ان کے منشاء کے بالکل مطابق اورآپ کے عقیدہ کے موافق تھا۔مگر چنوکہ عام طور پر لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ اس مضمون کو حضرت خلیفۃ المسیح نے نا پسند کیا ہے۔اس لئے مَیں نے اسے دوبارہ اجازت کے بغیر شائع کرنا پسند نہ کیا۔بلکہ ارادہ کرلیا کہ اگر حضرت خلیفۃ المسیح کو کچھ بھی ناراضگی ہو تو مَیں اس مضمون کو شائع نہ کرو ں۔چنانچہ اس خیال سے مندرجہ ذیل خط مَیں نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا۔