انوارالعلوم (جلد 6) — Page 139
بناء پر حضرت خلیفہ اوّل نے ظہیر الدین کو جماعت سے خارج کیا تھا۔توپھر مجھے جس نے کہ بقول مولوی صاحب ظہیر کی ایک بعد میں شائع ہونے والی کتاب سے متاثر ہو کر پہلے ہی کفر و اسلام کے م سئلہ پر بحث شروع کردی تھی۔اور میرا مضمون تمام و کمال حضرت خلیفۃ المسیح نے خود پڑھا تھا کیوں جماعت سے خارج نہ کیا۔مولوی محمد علی صاحب کے مندرجہ بالا حوالجات ان کے تکذیب دعویٰ کیلئے کافی ہیں مَیں اُمید کرتا ہوں کہ ان اندرونی اور بیرونی شہادتوں کے معلوم ہونے پر ہرایک صاحبِ انصاف اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب نے دید و دانستہ سلسلہ کی غلط تاریخ بنائی ہے تا کہ دور کے لوگوں کو دھوکا دیں اور جو شخص بھی ان واقعات کو اور اخبارات کے حوالجات کو پڑھے گا۔وہ نہایت حیرت سے مولوی صاحب کے ان فقروں کو پڑھے گا کہ :- 1- Much notice of this book does not seem to have been taken by the Ahmadiyya community۔2- But probably the contents of this book or some other leaf-let on the same subject were brought to the notice of the late Maulvi Nurudin sahib then head of the Ahmadiyya community and after some correspondence between Zahir-ud-Din and Maulvi sahib an announcement was made by the latter in the paper Badr 11th July 1921 (یہ مضمون ہم تمام و کمال پہلے درج کر آئے ہیں اور وہ خود ہی مولوی صاحب کے دعویٰ کو جھوٹا ثابت کرتا ہے) to effect that as Mr۔Zahiruddin was PROMULAGATING NEW DOCTRINES he was not to be considered as having any connection with the Ahmadiyya community۔SPLIT P۔13۔14 تاریخ اختلاف سلسلہ کا امر سوم کیا ظہیر کو پھر دوبارہ انہی عقائد کی وجہ سے یا دعویٰ خلافت کی وجہ سے جماعت سے خارج کیا گیا تیسرا قابلِ توجہ امر اختلاف کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کی تحریر میں یہ ہے کہ ظہیر الدین