انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 118

کیا خیالات تھے۔مولوی صاحب لکھتے ہیں:- اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔اور پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑجھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفین سلسلہ کے سامنے بطور ایک بیّن دلیل کے پیش کرتا ہوںجو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔خلاصہ مضمون یہ ہے کہ جب دنیا میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔اور لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ کو چھوڑ کر معاصی میں بکثرت مبتلا ء ہوجاتے ہیں۔اور مُردار دُنیا پر گدھوں کی طرح گرجاتے ہیں۔اور آخرت سے بالکل غافل ہوجاتے ہیں تو اس وقت میں ہمیشہ سے خدا تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ انہی لوگوں میں سے ایک نبی کو ما ٔمور کرتا ہے کہ وہ دُنیا میں سچّی تعلیم پھیلائے۔اور لوگوں کو خدا کی حقیقی راہ دکھائے۔پر لوگ جو معاصی میں بالکل اندھے …ہوئےہوتے ہیں وہ دُنیاکے نشہ میں مخمور ہونے کی وجہ سے یا تو نبی کی باتوں پر ہنسی کرتے ہیں اور یا اسے دکھ دیتے ہیں اور اس کے ساتھیوں کوایذائیں پہنچاتے ہیں اور اس سلسلہ کو ہلاکرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ وہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے انسانی کوششوں سے ہلاک نہیں ہوتا۔بلکہ وہ نبی اس حالت میں اپنے مخالفین کو پیش از وقت اطلاع دے دیتا ہے کہ آخر کار وہی مغلوب ہوں گے اور بعض کو ہلاک کر کے خدا دوسروں کو راہ راست پر لے آوے گا۔سو ایسا ہی ہوتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے چلی آئی ہے ایسا ہی اس وقت میں ہوا۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز مارث ۱۹۰۶ءاورجلد ۵نمبر ۳صفحہ ۱۱۷، ۱۱۸) یہ وہ ریویو ہے جو مولوی محمد علی صاحب نے میرے اس مضمون پر کیا ہے جو رسالہ تشحیذ الاذہان کے انٹروڈکشن کے طور پر یکم مارچ ۱۹۰۶ء؁جلد ۱صفحہ ۱میں حضرت مسیح موعودؑمیں شائع ہوا تھا۔اب ہر ایک منصف مزاج انصاف وعدل کے ساتھ اس امر کا فیصلہ کرے۔کہ اگر نبوت کا عقیدہ ظہیرالدین نے گھڑا تھا۔اور مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو پہلا سوال تو یہ ہے کہ مجھے ۱۹۰۶؁ءمیں یہ کیونکر معلوم ہوگیا کہ مرزا صاحب نبی تھے اور مَیں نے اس امر پر اس قدر زور دیا کہ تشحیذ الاذہان کے انٹروڈکشن کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جیسا کہ پہلے نبی آتے رہے ہیں اس وقت بھی اس کی طرف سے ایک نبی کا آنا ضروری ہے اور وہ نبی حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔مگر ہم اس امر کو بھی نظرا نداز کردیتے ہیں۔اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ظہیر الدین سے اس وقت بھی میری ساز باز تھی اور اسی کے ایماء سے میں نے حضرت مسیح موعود کو نبی لکھ دیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ میرے اس مضمون پر تعریفی رنگ میں مولوی محمد علی صاحب جیسے تجربہ کار محرّر نے جو اس وقت جماعت کی اصلاح کے واحد ٹھیکیدار بن رہے ہیں۔تعریفی رنگ میں ریویو کیونکر لکھ دیا مَیں نے اپنے مضمون میں صاف طورف پر