انوارالعلوم (جلد 6) — Page 107
جو مولوی صاحب نے لکھی ہے درحقیقت کوئی علیحدہ پیشگوئی نہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک پیشگوئی کی تشریح ہے سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ یہ دُعا سکھائی ہے:-اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ وَلَاالضَّاۗلِّيْنَ۔اے خدا ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تیرا انعام ہوا۔اور ایسا نہ ہو کہ ہم انعام پانے کے بعد مغضوب علیہم یا ضالّ بن جاویں۔اس جگہ مسلمانوں کیلئے تین آئندہ کی خبریں بتائیں گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ ان میں سے بھی ایسے لوگ ہوں گےجو خدا تعالیٰ کے اعلیٰ سے اعلیٰ انعام پاویں گے حتّٰی کی نبی ہوجائیں گے۔اور اسی طرح ان میں سے بعض مغضوب علیہم ہوجاویں گے اور بعض ضالّ۔مغضوب علیہم اور ضالّ کی تشریح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائی کہ مغضوب علیہم سے مراد یہود اور ضالّین سے مراد نصاریٰ ہیں۔چنانچہ ترمذی میں عدی ابن حاتم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلْیَھُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَیْھِمْ وَاِنَّ النَّصَارٰی ضُلَالٌ۔٭یعنی یہود مغضوب علیہم ہیں اور نصاریٰ ضاّل ہیں۔پس خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مغضوب علیہم اور ضالّین کی تشریح کرکے بتا دیا ہے کہ سورہ فاتحہ میں یہود و نصاریٰ بننے سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم پہلے لوگوں کے طریق اختیار کرو گے اور صحابہؓ کے سوال کرنے پر کہ کیا یہود و نصاریٰ کا رنگ ہم اختیار کریں گے۔آپؐکا فرمانا ’’اور کن کا ‘‘ ٭کوئی نئی خبر نہیں۔بلکہ اسی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے۔جو سورہ فاتحہ میں مذکور ہے۔اب ہم پہلے تو اس پیشگوئی کے وہ معنے دیکھتے ہیں جو خود حضرت مسیح موعودؑنےکئے ہیں۔کیونکہ جس کے زمانہ کی خبر اس پیشگوئی کے وہ معنے دیکھتے ہیں جو خود حضرت مسیح موعود ؑ نے کئے ہیں۔کیونکہ جس کے زمانہ کی خبر اس پیشگوئی میں دی گئی ہے وہی اس کا مطلب بہتر سمجھ سکتا ہے۔پھر ہم عقلاًبھی اس حدیث پر غور کریں گے۔فرقہ مغضوب و ضالیّن کی تشریح مسیح موعود ؑکے الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ ۷۳پر فرماتے ہیں’’ صرف دو فتنوں کا ذکر کیا۔ایک اندرونی یعنی مسیح موعود ؑکو یہودیوں کی طرح ایذاء دینا۔دوسرے عیسائی مذہب اختیار کرنا۔یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ سورہ فاتحہ میں صرف دو فتنوں سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی ہے۔(۱) اوّل یہ فتنہ کہ اسلام کے مسیح موعودؑکو کافر قرار دینا، اس کی توہین کرنا، اس کی ذاتیات میں نقص نکالنے کی کوشش کرنا اس کے قتل کا فتویٰ دینا جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْہِمْ میں انہی باتوں کی طرف اشارہ ہے (۲) دوسرے نصاریٰ کے فتنے سے بچنے کے لئے دُعا سکھلائی گئی۔اور سورۃ کی اسی کےذکر پر ختم کرکے اشارہ کیا گیا ہے کہ فتنہ نصاریٰ ایک سیل عظیم کی طرح ہوگا۔اس سے بڑھ کر کوئی *ترمذی أبواب التفسیر باب ماجاء فی الذی لیفسر القران برائہ*بخاری کتاب الاعتصام باب قول النبی لتعبنن سنن من کان قبلکم