انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 64

انوار العلوم جلد ۵ पक्ष صداقت اسلام کیا وجہ ہے کہ ایک محلہ ، ایک شہر، ایک ملک اور ایک ماں باپ سے تعلق رکھنے والے تو آپس میں محبت کریں مگر ایک خدا سے محبت اور تعلق رکھنے والے آپس میں محبت نہ کریں۔ان کی محبت سب سے زیادہ اور سب تعلقات کی نسبت مضبوط ہوتی ہے اور دُنیا میں لوگوں پر ظلم وستم کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں رکھتے جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس کے بندوں سے بھی ضرور محبت کرتے ہیں۔تو اسلام ہمیں اسی طرف لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ جب کوئی خدا تعالیٰ کی ان صفات کو دیکھتا ہے کہ ایک طرف وہ حسن میں کامل ہے ہر ایک خوبی اس میں پائی جاتی ہے اور وہ اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے اور دوسری طرف وہ طاقت اور قوت میں کامل ہے جو اس سے تعلق توڑتا ہے اسے سزا دیتا ہے تو اس کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ خدا کو اپنے سامنے دیکھ لیتا ہے اور اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے بندوں کی محبت جوش زن ہو جاتی ہے۔اس وقت وہ دنیا وی لحاظ سے اپنے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں پاتا۔اس وقت وہ یہ نہیں کہتا کہ فلاں چونکہ ہندو ہے یا عیسائی ہے یا سکھ ہے یا اور کسی مذہب کا ہے اس لئے اس کو دُکھ دینا چاہئے۔بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ سب خدا تعالیٰ کی مخلوق ہے اس سے مجھے محبت اور پیار کرنا چاہئے۔تو اسلام کہتا ہے کہ جب کوئی انسان اس درجہ پر کھڑا ہو جاتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔گویا اس وقت انسان یہ نہیں کہتا کہ میں ایسا کرتا ہوں بلکہ تمام کے تمام بندوں کی طرف سے کہتا ہے کہ میری عبادت ان کی عبادت ہے اور میں اپنے لئے ہی نہیں بلکہ ان سب کے لئے مدد چاہتا ہوں۔دنیا میں بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو زبانی تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا مال تمہارا ہی حال ہے۔لیکن اگر کوئی ان کے مال سے ایک پیسہ بھی لے تو لڑنے مرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔مگر اسلام کہتا ہے کہ جب انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنے آپ کو ہی پیش نہیں کرتا۔بلکہ یہی کہتا ہے کہ اسے خدا ہم سب تیری عبادت کرتے ہیں اور تو ہم سب کی مدد کر اور سب کو انعام دے۔پس یہ اسلام کی تعلیم ہے کہ اسلام سب کو اپنا بھائی سمجھنے اور سب کو فائدہ پہنچانے کی تلقین کرتا ہے۔یہ تو بندہ کا خُدا سے تعلق پیدا کرنے کا طریق ہے۔مگر یہ یک طرفہ بات ہے۔کامل اور مکمل سے تعلیم وہ ہو سکتی ہے جو اس امر کا بھی ثبوت پیش کرے کہ خدا تعالیٰ بھی بندہ سے محبت اور پیار کرتا ہے