انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 594

انوار العلوم جلد ۵ ۵۹۴ ہدایات زرین رہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے پندرہویں ہدایت کہ بلے میں کہا گیا ہے کہ پہنچا دے۔اور جس کو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہ بھی کوئی وجود ہونا چاہئے جو معتین اور مقرر ہو۔ورنہ اگر کی معین وجود کو نہ پہنچانا ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ پھینک دو یا بانٹ دور مگر اللہ تعالیٰ نے پہنچانا فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معین وجود ہیں جن کو ان کا حصہ پہنچاتا ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔د ال عمران : 1) اس میں عموم کے لحاظ سے سب انسان آگئے ان کو پیغام الٹی پہنچانا ہمارا کام ہے۔پس کسی قوم اور کسی فرقہ کو حقیر اور ذلیل نہ سمجھا جائے مبلغ کا کام پہنچانا ہے اور جس کو پہنچانے کے لئے کہا جائے اسے پہنچانا اس کا فرض ہے۔اسے یہ حق نہیں کہ جسے ذلیل سمجھے اسے نہ پہنچائے اور جسے معزز سمجھے اسے پہنچائے۔مگر ہمارے مبلغوں میں یہ نقص ہے کہ وہ اونی اقوام چوہڑوں چماروں میں تبلیغ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ بھی خدا کی مخلوق ہے اسے بھی ہدایت کی ضرورت ہے۔ان کو بھی تبلیغ کرنی چاہئے اور سیدھے رستہ کی طرف لانا چاہئے۔عیسائیوں نے ان سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے اور اس سے زیادہ ہندوستان میں ایسی اقوام کے لوگوں کو عیسائی بنا لیا ہے جتنی ہماری جماعت کی تعداد ہے اور اب ان لوگوں کو کونسل کی ممبری کی ایک سیٹ بھی مل گئی ہے۔ہمارے مبلغ اس طرف خیال نہیں کرتے۔حالانکہ ان لوگوں کو سمجھا نا بہت آسان ہے۔ان کو ان کی حالت کے مطابق بتایا جائے کہ دیکھو تمہاری کیسی گری ہوئی حالت ہے۔اس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دوسرے انسانوں میں ملنے جلنے کے قابل بناؤ۔اس قسم کی باتوں کا ان پر بہت اثر ہو گا اور جب انہیں اپنی ذلیل حالت کا احساس ہو جائے گا اور اس سے نکلنے کا طریق انہیں بتایا جائے گا تو وہ ضرور نکلنے کی کوشش کریں گے۔ان کو کسی مذہب کے قبول کرنے میں سوائے قومیت کی روک کے اور کوئی روک نہیں ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی۔ہمارے ہاں جو چو پریاں آتی ہیں تبلیغ کرنے پر کہتی ہیں۔ہم مسلمان ہی ہیں مگر ہم اپنی قوم کو کیونکر چھوڑ دیں۔یہ روک اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ دس پندرہ میں گھر اکٹھے کے اکٹھے مسلمان ہو جائیں اور ان کی قوم کی قوم بنی رہے جیسا کہ یہ لوگ جب عیسائی ہوتے ہیں تو اکھٹے ہی ہو جاتے ہیں۔پس ان میں تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔اگر ہم ساری دنیا کے لوگوں کو مسلمان بنائیں مگر ان کو چھوڑ دیں تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چوہڑے چھار تھے اس لئے ہم نے انکومسلمان نہیں بنایا۔خدا تعالیٰ نے ان کو بھی آنکھ ، کان ، ناک ، دماغ ، ہاتھ ، پاؤں اسی طرح دیئے ہیں جس طرح