انوارالعلوم (جلد 5) — Page 593
انوار العلوم جلد ۵۹۳ ہدایات زرین چھوڑ دیا۔یہ چونکہ جگی لحاظ سے ایک مقابلہ تھا۔اس لئے آپ الگ ہو گئے ورنہ ایسی باتیں جو تفریح کے طور پر ہوتی ہیں ان میں آپ شامل ہوتے تھے۔چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ گھوڑ دوڑ میں آپ نے بھی اپنا گھوڑا دوڑایا۔اس قسم کی باتوں میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔غرض مبلغ کو بھی ایسی باتوں میں کسی فریق کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے جو مقابلہ کے طور پر ہوں اور بالکل الگ تھلگ رہ کر اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ اس کے نزدیک دونوں فریق ایک جیسے ہی ہیں۔چودہویں بات یہ ضروری ہے کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ میرا چودہویں ہدایت علم کامل ہو گیا ہے بہت لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا علم مل ہوگیا ہے اور ہمیں اور کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں ہے۔کیو نکہ علم کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔میں تو علم کی مثال ایک رستہ کی سمجھا کرتا ہوں جس کے آگے دو رشتے ہو جائیں پھر اس کے آگے دو ہو جائیں اور پھر اس کے آگے دو۔اسی طرح آگے شاخیں ہی شاخیں نکلتی جائیں اور اس طرح کئی ہزار رستے بن جائیں یہی حال علم کا ہوتا ہے علم کی بیشمار شاخیں ہیں اور اس قدر شاخیں ہیں جن کی انتہاء ہی نہیں پیس علم کا خاتمہ شاخوں کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس کا خاتمہ بڑ کی طرف ہے کہ وہ ایک ہے اور وہ ابتداء ہے جو جہالت کے بالکل قریب ہے۔بلکہ جہالت سے بالکل ملی ہوئی ہے ور نہ آگے جوں جوں بڑھتے جائیں اس کی شاخیں نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں اگر کسی نے ایک شاخ کو ختم کر لیا تو اس کے لئے دوسری موجود ہے۔غرض علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور روحانی علوم کی تو قطعا کوئی حد ہے ہی نہیں۔ڈاکٹری کے متعلق ہی کس قدر علوم دن بدن نکل رہے ہیں اور روز بروزہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔پس کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔اور جہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ علم ختم ہو گیا ہے وہاں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ علم کے درخت سے اتر کر جہالت کی طرف آگیا ہے پیس کبھی یہ مت خیال کرو کہ ہمارا علم کامل ہو گیا۔کیونکہ ایک تو یہ جھوٹ ہے کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔دوسرے اس سے انسان متکبر ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اگر انسان ہر وقت اپنے آپ کو طالب علم سمجھے اور اپنے علم کو بڑھاتا رہے تو اس کے دل پر زنگ نہیں لگتا۔کیونکہ جس طرح چلتی تلوار کو زنگ نہیں لگتا لیکن اگر اسے یوں ہی رکھ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔پس ہر وقت اپنا علم بڑھاتے رہنا چاہئے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔