انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 589

انوار العلوم جلد ۵ ۵۸۹ بعد از نماز مغرب ہدایات زرین میں نے پہلے دس باتیں بیان کی تھیں۔اب گیارہویں بات بتا تا ہوں۔گیارہویں بات جس کا یاد رکھنا مبلغ کے لئے ضروری ہے وہ گیارہویں ہدایت نازک امر ہے بہت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں رکھتے انیس لئے بعض دفعہ زک پہنچ جاتی ہے۔میں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اُٹھایا ہے اور بران باتوں میں سے ہے جو بہت سہل الحصول ہیں مگر تعجب ہے کہ بہت لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔اور وہ یہ ہے کہ دشمن کو بھی حقیر نہ سمجھو اور اس کے ساتھ ہی کبھی یہ خیال اپنے دل میں نہ آنے دو کہ تم اس کے مقابلہ میں کمزور ہو۔مجھے مباحثات کم پیش آتے ہیں اس لئے میں اس معاملہ میں کم تجربہ رکھتا ہوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ نہایت کم علم اور معمولی سے آدمی نے ایسا اعتراض کیا ہے کہ جو بہت وزنی ہوتا ہے اور کئی دفعہ میں نے بچوں کے منہ سے بڑے بڑے اہم اعتراض سنتے ہیں۔اس لئے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا مد مقابل کم علم اور جاہل انسان ہے اور اس کی ہمیں کیا پرواہ ہے۔بلکہ یہی منظر رکھنا چاہئے کہ یہ بہت بڑا دشمن ہے۔اور اگر بچہ سامنے ہو اور اس کا رعب نہ پڑ سکے تو یہ خیال کرلینا چاہئے کہ ممکن ہے میرا امتحان ہونے لگا ہے۔ہمیں ایک طرف تو خواہ بچہ ہی مقابلہ پر ہو اس کو حقیر نہ سمجھو بلکہ بہت قوی جانو۔اور دوسری طرف اس کے ساتھ ہی تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ہم حق پر ہیں ہمیں کسی کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔گویا نہ تو مد مقابل کو حقیر سمجھنا چاہئے اور نہ مایوس ہونا چاہئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ پر اعتماد ہو تو اس کی طرف سے ضرور مدد آتی ہے اور خدا ہی کی مدد ہوتی ہے جس کے ذریعہ انسان دشمن کے مقابلہ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ورنہ کون ہے جو سب دنیا کے علیم پڑھ سکتا ہے؟ پھر کون ہے جو سب اعتراضات نکال سکتا ہے اور پھر کون ہے جو ان کے جوابات سوچ سکتا ہے ؟ ہر انسان کا دماغ الگ الگ باتیں نکالنا ہے۔اس لئے خدا پر ہی اعتماد رکھنا چاہئے کہ وہ ہی ہماری مدد کرے گا اور ہم کامیاب ہوں گے اور ادھر دشمن کو حقیر نہ سمجھا جائے جب یہ دو باتیں ایک وقت میں انسان اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ کبھی اک نہیں اُٹھا سکتا۔مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ جب ایک دو دفعہ کامیاب ہو جاتے ہیں اور اچھا بولنے لگتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں۔کون ہے جو