انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 590

انوار العلوم جلد ۵ ۵۹۰ ہدایات زریں مارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔دشمن کو بھی حقیر نہ سمجھنا چاہئے بلکہ بہت بڑا سمجھنا چاہئے ہاں ساتھ ہی یہ بھی اعتقاد ہونا چاہئے کہ اگر دشمن قوی ہے تو میرا مددگار بھی بہت قوی ہے۔اس لئے دشمن میرے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکے گا۔جب یہ دو باتیں انسان میں پیدا ہو جائیں۔تو اول تو خدا اس کے دشمن کی زبان پر کوئی اعتراض ہی جاری نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو اس کا جواب بھی سمجھا دے گا۔ایک دفعہ یہاں ایک انگریز پادری آیا۔والٹر اس کا نام تھا۔احمدیت کے متعلق ایک کتاب بھی اس نے لکھی ہے۔اب مرگیا ہے اس نے مجھ سے پوچھا کہ قرآن انجیل اور توربیت کی تصدیق کرتا ہے مگر ان میں آپس میں اختلاف پایا جاتا ہے اگرچہ میں قرآن کی تصدیق کرنے کے اور معنے کیا کرتا ہوں اور میرے نزدیک جب ایسے موقع پر لام صلہ آئے تو اس کا اور ہی مطلب ہوتا ہے۔مگر اس وقت میرے دل میں یہی ڈالا گیا کہ کہو ہاں تصدیق کرتا ہے۔اور بتایا گیا کہ وہ کوئی اختلاف پیش ہی نہیں کر سکے گا۔اس نے کہا کہ ان میں تو اختلاف ہے پھر تصدیق کے کیا معنی؟ میں نے کہا کوئی اختلاف پیش تو کرو۔اس پر وہ خوب قہقہ مارکر رہنا اور کہا ایک اختلاف ؟ اختلاف تو بیسیوں ہیں۔میں نے کہا ایک ہی پیش کرو۔یہ باتیں میرے مینہ سے غداری کہلوا رہا تھا۔ورنہ اختلاف تو فی الواقع موجود ہیں۔گو اس قسم کے اختلاف نہیں ہیں جس قسم کے اس کی مراد تھی۔وہ پادری تھا اور انجیل کا ماہر۔اگر کوئی اختلاف پیش کر دیتا تو بات کہی جا پڑتی۔مگر چونکہ میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ وہ کوئی اختلاف پیش نہیں کر سکے گا۔اس لئے ہیں نے زور دے کر کہا کہ کوئی اختلاف تو پیش کرو۔اس نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا۔قرآن کریم می لکھا ہے کہ میچ پرندہ پیدا کیا کرتا تھا انجیل میں اس طرح نہیں لکھا۔میں نے کہا۔پادری صاحب آپ تو سمجھدار آدمی ہیں اور تاریخ نویسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔آپ بتا نہیں کیا اگر ایک مورخ کچھ واقعات کو اپنی کتاب میں درج کر دے اور دوسرا ان کو درج نہ کرے۔تو یہ کہا جائے گا کہ ان کتابوں کا آپس میں اختلاف ہے۔یہ سن کر اس کے ساتھ جو دو انگریز تھے ان کی بے اختیار ہنسی نکل گئی اور انہوں نے کہا في الواقع یہ تو کوئی اختلاف نہیں اس پر وہ بالکل خاموش ہوگیا۔نہیں جب انسان خدا تعالی پر بھروسہ کرلیتا ہے تو خدا خود اس کی مدد کرتا ہے اور اسے دشمن پر خواہ اس کا دشمن کتنا ہی قوی ہو کامیاب کر دیتا ہے۔یارہویں بات جس کا مں نے بار ہا تجربہ کیا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں بارہویں ہدایت نے اسے استعمال کیا ہو اور اس کا فائدہ نہ دیکھا ہو۔یہ ہے کہ جب انسان تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہو تو ذہن میں جتنے علوم اور جتنی باتیں ہوں ان کو نکال دے اور یہ دعا