انوارالعلوم (جلد 5) — Page 587
۵۸۷ لگے۔اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ تعریف کریں۔اس میں شک نہیں کہ اپنے کام کا نتیجہ اور کامیابی سنانا بھی ضروری ہوتا ہے جس طرح حضرت صاحب سنایا کرتے تھے۔مگر یہ انتہائی مقام کی باتیں ہیں ابتدائی حالت کی نہیں ہیں مبلغوں کو چاہئے کہ اپنے لیکچروں اور مباحثوں کی خود تعریفیں نہ سنایا کریں اور صرف اتنی ہی بات بتائیں جتنی ان سے پوچھی جائے اور وہی بات بتائیں جو انہوں نے کہی۔آگے اس کے اثرات نہ بیان کیا کریں یہ بتانا ان کا کام نہیں بلکہ اس مجلس کا کام ہے میں میں وہ اثرات ہوئے وہ خود بتاتے پھریں کسی مبلغ کا یہ کہنا کہ میں نے فلاں مخالف کو یوں پکڑا کہ وہ ہکا بکا رہ گیا اور اس کا رنگ فق ہو گیا جائز نہیں۔یہ تم نہ کہو بلکہ وہ لوگ کہیں گے جنہوں نے ایسا ہوتے دیکھا۔تمہارے منہ سے ایک بھی ایسا لفظ نہ نکلے جس سے تمہاری خوبی ظاہر ہوتی ہو۔تم صرف واقعات بیان کرد و اور آگے اثرات کے متعلق کچھ نہ کہو۔یہ بات نوجوان اور مبتدی مبلغوں کے لئے نہایت ضروری ہے اور جو استاد ہو جائیں انہیں دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بیان کرنا بعض دفعہ ضروری ہوتا ہے آٹھویں بات یہ ہے کہ عبادات کے پابند بنو۔اس کے بغیر نہ تم دنیا اٹھویں ہدایت کو فتح کر سکتے ہو اور نہ اپنے نفس کو فرض عبادات تو ہر ایک مبلغ ادا کرتا ہی ہے لیکن ان کے لئے تہجد پڑھنا بھی ضروری ہے۔صحابہ کے وقت تہجد نہ پڑھنا عیب سمجھا جاتا تھا۔مگر اب تہجد پڑھنے والے کو ولی کہا جاتا ہے۔حالانکہ روحانیت میں ترقی کرتے کے لئے تجد اور نوافل پڑھنے ضروری ہیں۔دوسرے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہیں مگر مبلغ کے لئے تو بہت ہی ضروری نہیں پس اگر زیادہ نہیں تو کم ہی پڑھ لے۔آٹھ کی بجائے دو ہی پڑھ لے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو یہاں تک کرلے کہ نماز سے پہلے پانچ منٹ لیٹے لیٹے استغفار پڑھ لے اور آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھاتا جائے۔اس کے علاوہ ذکر الہی اور دوسری عبادتوں کا بھی شغل رکھنا چاہئے۔کیونکہ ان کے بغیر روح کو جلاء نہیں ہوتا۔فرائض تو ایسے ہیں کہ اگر کوئی ان کو ادا نہ کرے تو مبلغ رہتا ہی نہیں اور فرائض تو ادا کئے ہی جاتے ہیں۔کیونکہ اگر مسجد میں نہ آئے تو وہ سمجھتا ہے کہ لوگ کہیں گے اچھا مبلغ ہے۔لیکن قرب الہی حاصل کرنے کے لئے اور روحانیت میں ترقی کرنے کے لئے نوافل پڑھنے ضروری ہیں اور دیگر اذکار کی بھی بہت ضرورت ہے۔نویں ہدایت نویں چیز مبلغ کے لئے دُعا ہے۔دُعا خدا کے فضل کی جاذب ہے جو شخ عبادت تو کرتا ہے مگر دعا کی طرف توجہ نہیں کرتا اس میں بھی کبر ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کے انعام کی ضرورت نہیں سمجھتا۔حالانکہ مونٹی جیسا نبی بھی خدا تعالیٰ