انوارالعلوم (جلد 5) — Page 586
۵۸۶ چھٹی ہدایت چھوٹی بات مبلغ کے لئے یہ ہے جس میں بہت کو تا ہی ہوتی ہے کہ جو بلغ دور سے پ پر جاتے ہیں وہ خرچ بہت کرتے ہیں۔میرے نزدیک مبلغ کے لئے صرف یہی جائز ہے کہ وہ کرایہ ہے ، کھانے کی قیمت لے یا رہائش کے لئے اسے کچھ خرچ کرنا پڑے تو وہ لے گویا میرے نزدیک تُوتُ لَا يَمُوتُ یا ایسے اخراجات جولازمی طور پر کرنے پڑیں ان سے زیادہ لینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔مثلاً مٹھائی وغیرہ یا اور کوئی مزہ کے لئے چیزیں خریدی جائیں تو ان کا خرچ اپنی گرہ سے دینا چاہئے۔ہماری حالت اور ہمارے کام کی حالت کی وجہ سے جائز نہیں ہے کہ اس قسم کے اخراجات فنڈ پر ڈالے جائیں۔میں نے مولوی صاحب کے زمانہ میں دوستوں کے ساتھ دو دفعہ سفر کیا ہے۔مگر میرے نزدیک دوستوں کی جو زائد چیزیں تھیں ان کا خرچ اپنے پاس سے دیا اور خود اپنا خرچ تو میں لیا ہی نہ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ کئی آدمیوں کے بنارس تک کے خرچ پر صرف ستر روپے خرچ آئے تھے پس جہاں تک ہو سکے مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ بہت کم خرچ کرے کیونکہ یہ نمونہ ہوتا ہے دوسروں کے لئے اگر یہی اسراف کرے گا تو لوگ معترض ہوں گے۔اگر ایک تنخواہ دار تنخواہ میں سے خرچ کرتا ہے تو اس کا مال ہے وہ کر سکتا ہے۔لیکن اگر اس طرح کا خرچ ہو جس طرح کا مبلغوں کا ہوتا ہے اور ایک پیسہ بھی اسراف میں لگائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اللے تللے خرچ کرتے ہیں۔اپنی جیب سے تھوڑا ہی نکلنا ہے کہ پرواہ کریں۔اور جب لوگوں کو اس طرح کے اعتراض کا موقع دیا جائے گا تو وہ چندہ میں سستی کریں گے۔ساتویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں خودستائی نہ ہو۔بہت لوگوں کی تباہی کی ساتویں ہدایت یہی وجہ ہوئی ہے۔خواجہ صاحب اپنے لیکچروں کی تعریف خود لکھتے دوسروں کی طرف سے شائع کرانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ مولوی صدرالدین صاحب خواجہ صاحب کے ایک لیکچر کی رپورٹ حضرت خلیفہ اول کو سُنا رہے تھے کہ مولوی صاحب نے اس کے ہاتھ سے وہ کا ند لے لیا اس کی پشت پر لکھا ہوا تھا کہ جہاں جہاں میں نے اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ میں نے یہ کہا یا میری نسبت یہ کہا گیا وہاں خواجہ صاحب لکھ کر شائع کرا دیا جائے۔حضرت مولوی صاحب نے وہ خطہ پڑھ کر مجھے دیدیا اور میں نے اس کی پشت پر یہ ہدایت لکھی ہوئی دیکھی۔اس کا جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے پس مبلغ کو بھی اس بات پر زورنہ دینا چاہتے کہ فلاں جگہ ہیں نے یہ بات کہی اور اس کی اس طرح تعریف کی گئی یا اس کا ایسا نتیجہ نکلا کہ مخالف دم بخود ہو گیا۔بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سنائیں۔ہم نے یہ بات کہی اور اس کا ایسا اثر ہوا کہ لوگ عش عش کرنے