انوارالعلوم (جلد 5) — Page 555
علا نكتة الله ۵۵۵ ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جسمانی امور میں تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی زیادہ کھائے گا تو چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ آٹھ دس آدمیوں کی خوراک کھا لے گا سو یا ہزار آدمی کی خوراک نہیں کھائے گا۔کیا اسی طرح فرشتوں کی تحریک کے متعلق بھی کوئی حد مقرر ہے کہ اس سے زیادہ قبول نہیں کر سکتا۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مقابلہ صحیح نہیں ہے۔کیونکہ انسان کا جسم چند روز کے لئے ہے اور سم اور روح کا مقابلہ دلالت بالاولیٰ کے طور پر ہے نہ کہ کلی طور پر جسم چونکہ تھوڑے عرصہ کے لئے ہے اس لئے اس کی قوتیں محدود ہیں۔مگر روح چونکہ ہمیشہ کے لئے ہے۔اس لئے اس کی طاقتیں بھی غیر محدود ہیں۔اور روح کو خدا تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جتنا کوئی اسے بڑھائے بڑھتا جاتا ہے اور جتنی انسان ترقی کرنا چاہیے اتنی ہی کر سکتا ہے۔پس روحانی طاقت نے چونکہ ہمیشہ کام آنا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے بڑھانے کے غیر محدود ذرائع رکھے ہیں۔اور جسمانی طاقت چونکہ ختم ہونے والی ہے کیونکہ جسم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کی طاقتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں اس لئے ان کے بڑھانے کے محدود ذرائع رکھے گئے ہیں۔اس کا ثبوت ہم خدا تعالیٰ کی پیدائش سے دیتے ہیں۔یہ ثابت شدہ بات ہے کہ تمام جسمانی طاقتیں ایسی ہیں جو محدود ہیں۔ایک حد تک بڑھ سکتی ہیں اور اس سے آگے نہیں جاسکتیں مثلا معدہ ہے۔یہ ایک حد تک بڑھے گا اس سے آگے نہیں۔اسی طرح سینہ ہے یہ بھی ایک حد تک بڑھے گا۔اسی طرح سر ہے اس کے بڑھنے کی بھی ایک حد ہے۔یہ نہیں کہ بڑھتے بڑھتے مشکے کے برابر ہو جائے یا قد ہے چھ سات یا زیادہ سے زیادہ نوفٹ ہو جائے گا۔مگر میں پچیس فٹ تک نہیں جاسکے گا۔تو جس قدر جسمانی چیزیں ہیں ان کی حد مقرر ہے۔لیکن وہ قوتیں جو روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہوتیں۔مثلاً دماغ میں باتوں کو محفوظ رکھنے کے ذرات ہیں ان کو جتنا بڑھاؤ بڑھتے جاتے ہیں اور خواہ کوئی کتنا بڑا عالم ہو جائے اس کے یہ ذرات ختم نہیں ہو جائیں گے۔اور یہ طاقت بڑھتی جائے گی کیونکہ یہ روحانیت سے تعلق رکھتی ہے۔اور جسم اور روح کا واسطہ دماغ ہی ہے۔مگر معدہ وغیرہ کے لئے یہ بات نہیں ہے۔تو فرشتوں کی تحریک سے انسان جتنا زیادہ کام لیگا طاقت اتنی ہی زیادہ بڑھتی جائے گی۔دوسری بات جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے وہ ایک عام قاعدہ ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ •