انوارالعلوم (جلد 5) — Page 495
انوار العلوم جلد ۵ ۴۹۵ گر تونے نوبت والا۔گر اتناہی جتنا کہ تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ضرور تو بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ وہ نام بتائے اور انہوں نے بتا دیئے۔اس جگہ ضمنی طور پر میں اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے خود کیوں نام نہ بتائیے؟ آدم سے کیوں کہلوائے ؟ سو اس میں یہ حکمت تھی کہ اگر خدا تعالیٰ بتاتا تو ان میں ساری صفتیں آجائیں۔حضرت آدم کو کہا گیا کہ تو بتا یعنی تیری طرف یہ دیکھ لیں۔غرض ملائکہ کی طاقتیں انسان سے محدود ہوتی ہیں۔مگر باوجود اس کے مانکہ جو کچھ کرتے ہیں خدا کے حکم اور منشاء کے ماتحت کرتے ہیں کسی قسم کی نافرمانی نہیں کر سکتے۔گیارہویں باتے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملانکہ میں ارادہ ہے مگر بہت محدود۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے گھوڑے کے گلے میں لمبا رسہ ڈال کر ایک کیلے سے باندھ دیا جائے کہ حرکت کرتا رہے لیکن اس حلقہ سے باہر نہ جا سکے۔ملائکہ بھی ایک مرکز کے ارد گرد حرکت کرتے رہتے ہیں اور اس حد سے باہر نہیں جاسکتے۔وہ حدیسی ہے کہ : لا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ - (التحريم : ) اس حد سے باہر نہیں جاسکتے۔فرشتوں کے ارادہ کا پتہ زمین سے بھی لگتا ہے کہ وہ حضرت آدمؑم کے متعلق کہتے ہیں :- اتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاء (البقرة : ٣١) : یہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ ہمیں سمجھائیے کہ آدم دنیا میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔اس کا کیا انتظام ہو گا ؟ یہ سوال کرنا بتاتا ہے کہ ایک حد تک ان میں ارادہ ہوتا ہے خونه تو بدی تک جاتا ہے اور نہ نیکی سے آگے گزر جاتا ہے۔مگر اس آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوچھا۔کہا جاسکتا ہے ممکن ہے کہ خدا نے الہام کیا ہو کہ پوچھو تو انہوں نے پوچھا ہو۔تو پر اول تو سی بات غلط ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر پوچھا کیونکہ آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے إن كُنتُم صدقین اگر تم یہ سوال کرنے میں پیچھے ہو تو اسماء بتاؤ۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کا سوال خدا کے حکم کے ماتحت نہ تھا۔پھر حدیثوں میں ہم ایسی باتیں پڑھتے ہیں جن سے فرشتوں کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔جیسا کہ آتا ہے :- ہوتا ایک شخص ایک عالم کے پاس گیا اور جاکر کہا میں نے اتنے گناہ کہتے ہیں کیا میں توبہ کر سکتا ہوں ؟ اس نے کہا تمہاری تو یہ قبول نہیں۔اس نے اسے قتل کر دیا اور پھر ایک اور شخص کے