انوارالعلوم (جلد 5) — Page 410
انوار العلوم جلد ۵ ۴۱۰ اصلاح نفس ہماری جماعت کو توفیق ملی ہے کہ اس مرکز میں اسلام کا نشان قائم کرنے کے لئے مسجد کی زمین خرید ہے۔ایسی کمزور مالی حالت میں جو کہ ہماری جماعت کی ہے یہ بہت شکر کا مقام ہے کہ اتنا بڑا کام کرنے کی اسے توفیق ملی۔پچھلے سال جلسہ ختم ہونے کے سات آٹھ دن کے بعد میرے دل میں اس مسجد کی تحریک پڑی اور اس زور سے پڑی کہ میں نے سمجھا کہ ملائکہ نے ہی ڈالی ہے۔میں گھر سے نماز کے لئے نکلا اور مسجد میں فوراً یہ خیال ہوا کہ لندن میں مسجد بنانی چاہئے۔لیکن لندن میں مسجد بنانے کا خیال چونکہ بہت بڑا خیال تھا اس لئے سوال پیدا ہوا کہ کس طرح بنائی جائے ؟ اس کے لئے میں نے یہ خیال کیا کہ چونکہ باری جماعت کے لوگ آگے بہت سا چندہ دیتے ہیں اور چندہ دینا ان کے لئے مشکل ہوگا اس لئے یہی صورت ہو سکتی ہے کہ قرضہ لے لیا جائے جوبا اقساط ادا کر دیا جائے۔پہلے مجھے پانچ ہزار کا خیال آیا لیکن جب میں تحریک کرنے لگا تو پندرہ ہزار کا خیال آیا۔میں نے سمجھا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لئے اس رقم کی تحریک کرنی چاہئے۔اس کے متعلق جب میں نے مسجد میں ان چند آدمیوں کے سامنے جو میرے اردگرد بیٹھے تھے ذکر کیا تو اسی وقت بعض نے چندے لکھوانے شروع کر دیئے اور بعض نے کہا کہ ہم قرضہ نہیں دیتے یونی چندہ دیتے ہیں۔پھر جب میں اس کے متعلق مضمون لکھنے لگا تو دل نے کہا قرضہ کیا لکھنا ہے ممکن ہے جماعت پر زور دیں تو پندرہ ہزار ہی چندہ ہو جائے۔اس لئے می تحریک ہوئی کہ چندہ ہو قرضہ نہ ہو لیکن جب میں مضمون لکھتے ہوئے رقم لکھنے پر پہنچا تو پندرہ ہزار کی بجائے قلم سے نہیں ہزار نکلا میں نے سمجھا یہ بھی الٹی تحریک ہو گی۔مگر دل میں تعجب تھا کہ اتنا روپیہ کہاں سے آئے گا۔میں نے وہ اعلان بیاں کی جماعت کے چند لوگوں کو سُنایا جو بالعموم تھوڑی تھوڑی تنخواہوں پر تنگی سے گزارہ کرتے ہیں مگر اسی وقت دو تین ہزار کے درمیان رقم کا اعلان ہو گیا۔پھر میں نے گھر جا کر سنایا تو چند ہی عورتوں نے پانچ سو کے قریب رقم لکھوا دی۔پھر شام کو میاں کے سرب لوگوں کو جمع کر کے تحریک کی تو رقم نو ہزار کے قریب پہنچ گئی اور دوسرے دن بارہ ہزار سے آگے نکل گئی۔تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تحریک ہے۔اس وقت میں نے اشتہار لکھا اور خیال آیا کہ خدا کچھ اور قدرت دکھانا چاہتا ہے۔لاہور آدمی بھیجا اس خیال سے کہ یہ رقم لا ہور تک ہی جمع ہو جائے۔لاہور کے احمدیوں نے کہا کہ ہم قادیان والوں سے مل کر ۲۰ ہزار کی رقم پوری کردیں گے۔چنانچہ لاہور اور قادیان اور گورداسپور کی جماعتوں نے مل کر یہ رقم پوری کر دی۔انہی دنوں غیر احمدی شور مچارہے تھے کہ اسلام تباہ ہو گیا ہے۔کیونکہ خلافت پر حملہ ہوا ہے اور