انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 411

انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس خلافت کو قائم رکھنے کے لئے چندہ جمع کر رہے تھے۔ایک کالج میں جب ان کا چندہ ہوا تو چھ سو طلباء نے دو ہزار چندہ لکھایا۔مگر جب ہماری تحریک لاہور پہنچی تو وہاں کے امیر نے احمدی طلباء کو کہا کہ کیا کفر و اسلام میں کوئی فرق نہیں۔چھ سو طلباء نے دو ہزار چندہ لکھوایا ہے۔تم سنتر طلباء ہی دو ہزار پورا کرد دو۔چنانچہ اپنی طلباء نے دو ہزار پورا کر دیا۔پھر یہ عجیب بات ہے کہ ان چھ سو طلباء کا چندہ تو ادا نہ ہوا مگر ہمارے ستر طلباء نے دو ہزار روپیہ ادا کر دیا۔پھر اس تحریک کو وسیع کر دیا گیا تا کہ ساری جماعت اس ثواب میں شریک ہو سکے اور اس طرح اس چندہ کی رقم ایک لاکھ کر دی گئی جو ر تم اس وقت تک وصول ہو چکی ہے وہ ۹۳ ہزار ہے اور وعدے ملا کر ایک لاکھ سے اوپر ہو جاتی ہے۔یہ وہ بہت بڑا کام ہے جو اس سال خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت سے کرایا ہے۔اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے رُک نہیں سکتی۔لندن مسجد کی جگہ خرید لی گئی ہے جس میں مبلغین کے رہنے کے لئے مکان بھی ہے۔اب انشاء اللہ مسجد تیار ہوگی اور اس کا اشاعت اسلام پر بہت بڑا اثر ہو گا۔جو جگہ خریدی گئی ہے وہ بہت اعلیٰ درجہ کی ہے۔اس کے ارد گرد تا جر بہتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کے ہیں۔پھر مکان ہی نہیں زمین بھی لندن جیسے شہر میں موقع کی مل گئی ہے اور سستی مل گئی ہے اور اتنی سستی ہے کہ لاہور جیسے شہر میں بھی اس نرخ پر ایسے با موقع اور اس نرخ پر ملنی مشکل ہے۔امریکہ میں احمدیہ مشن دوسری چیز جواس سال قائم ہوئی وہ امریکہ کا مشن ہے، اسی جگہ میں نے گذشتہ جلسہ پر اعلان کیا تھا کہ بیرونی ممالک میں تبلیغی مشن قائم کئے جائیں گے۔چنانچہ اس سے تھوڑے ہی دن بعد مفتی صاحب امریکہ روانہ ہو گئے ، گرامریکہ کی سلطنت نے انہیں ملک میں داخل ہونے سے روک دیا۔اور وہ لوگ جو ہماری ہر بات کی مخالفت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ بہت اچھا ہوا۔ان کے آدمی کو امریکہ نے روک دیا۔حالانکہ امریکن گونٹ کو یہ اعتراض نہیں تھا کہ مفتی صاحب احمدی ہیں اس لئے داخل نہ ہوں بلکہ وہ کہتی تھی کہ مفتی صاحب چونکہ اسلام کا ایک ایسا مسئلہ مانتے ہیں جسے ہم پسند نہیں کرتے اس لئے داخل نہ ہوں مگر مسلمان کہلانے والوں نے اس موقع پر یہودیوں والی بات کی کہ ہمارے مقابلہ میں کفار سے دوستی ظاہر کی اور خوش ہوئے کہ انہوں نے ایک اسلامی مسئلہ کی بناء پر ہمارے مبلغ کو روک دیا لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ خدا چاہتا تھا کہ ان کا ہم پر کسی قسم کا احسان نہ ہو کیونکہ مکن تھا کہ اگر وہ ہمارے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف آواز اُٹھاتے اور اس کے بعد مفتی صاحب