انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 394

انوار العلوم جلد ۵ ۳۹۴ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اعتراض کرنا اور دوسرے کا کام صرف جواب دینا ہو۔-۳- اگر یہ طریق آپ کو منظور نہ ہو تو پھر کیوں کیا جائے کہ ایک ہی وقت میں میری طرف سے وید کے الہامی ہونے پر اعتراضات ہوں اور آپ کی طرف سے قرآن کریم کے الہامی ہونے پر تاکہ ہر ایک فریقی پر برابر کی ذمہ داری رہے۔۴- سوال و جواب کا طریق یہ ہو کہ معترض اپنا اعتراض مع وضاحت اور تشریح کے شائع کر دے پھر مجیب اس کا جواب شائع کرا دے پھر معترض اس جواب پر اپنی جرح شائع کرا دے۔اس کے بعد مجیب اس جرح کا جواب شائع کر دے اور اس مسئلہ کو ختم سمجھا جائے۔۵ تین اعتراضات جو کئے جائیں ان کی نسبت فیصلہ کر لیا جائے کہ آیا ایک ہی دفعہ پیش کئے جاویں گے یا علیحدہ علیحدہ۔میرے نزدیک یہ بہتر ہوگا کہ پیش اکٹھے کئے جاویں۔آگے جواب ان کے باری باری دیئے جاویں پہلے ایک سوال کا جواب اور اس پر تنقید اور پھر اس کا جواب شائع ہو جائے پھر دوسرے کو لیا جائے پھر تیسرے کو۔یہ انتظام کیا جائے کہ دونوں فریقی کے مضامین ایک آربیہ اخبار میں شائع ہوں اور ایک مسلمان اخبار میں اپنی طرف سے میں الفضل " پیش کرتا ہوں۔الفضل میرے مضامین کے علاوہ پروفیسر صاب کے ان مضامین کو جو اس سلسلہ میں کھلیں گے مکمل طور پر شائع کر دیا کرے گا اور پروفیسر صاحب میں آریہ اخبار میں اپنے مضامین شائع کرائیں اس کے ساتھ یہ انتظام بھی کر دیں کہ وہ میرے مضامین کو بھی جو اس سلسلہ میں نکلیں تمامہ شائع کر دیا کرے۔اگر اخبارات کو اس خیال سے کہ ان کے صفحات میں سلہ مضامین کے شائع ہونے کی گنجائش نہ ہو گی اس پر اعتراض ہو تو پھر یہ انتظام کیا جائے کہ ایک ضمیمہ طبع کرا کے اخبار میں شائع کرایا جائے۔آپ کے مضامین بھی ضمیمہ کے طور پر شائع ہوں اور میرے بھی۔ضمیمہ کا خرچ فریقین ادا کریں یاکوئی ایسی جماعت جسے اس مذہبی تحقیق سے بچھپی ہو۔اگر کتابی صورت میں مضامین شائع کئے جاویں تو کسی کو اختیار نہ ہو گا کہ مضامین کے متعلق اپنی طرف سے کچھ لکھے یا مضامین میں کس قسم کا تغیر و تبدل کرے۔اس صورت میں بھی بہتر ہوگا کہ دونوں فریق کے متحدہ انتظام کے با تحت مضامین شائع کئے جاویں اور دونوں فریق خرچ میں برابر کے حصہ دار ہوں اور بعد میں کتب کو تقسیم کر لیا جائے۔- مضامین کی تحقیق کا یہ طریق ہوگا کہ سی کلام کے معنے کرتے وقت یا خود اسی کلام کا سیاق و سباق حجت ہوگا یا اس کتاب کا محاورہ یا لغت یا قواعد صرف و نحو اور معانی یا محاورہ زبان یا ایسے علوم