انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 393

انوار العلوم ۳۹۳ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب قرآن کریم پر اعتراض کرنیکی اجازت اور حیض ضروی امور پروفیسر رام دیو صاحب نے اپنے مضمون کے آخر میں اس بات کی بھی اجازت چاہی ہے کہ وہ قرآن کریم کے الہامی ہونے کے متعلق کچھ اعتراضات شائع کریں جن کا جواب میں شائع کروں پھر وہ مضامین کتابی صورت میں شائع کرا دیئے جاویں مجھے بہت ہی خوشی ہوئی ہے کہ پروفیسر صاحب نے میری تحریر کے مطابق اس طریق کو اختیار کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور سچی بات یہی ہے کہ کسی مسئلہ کی تحقیق اسی طریق پر ہوسکتی ہے کہ اس کے صدق و کذب کو مشاہدہ یا لائق کے ذریعہ سے دیکھا جائے نہ اس طرح کہ زید و بنجر کے اقوال کو سند لیا جائے۔زید و بکر کے اقوال سند نہیں ہوتے ہاں کبھی بطور تائیدی دلائل کے استعمال ہو سکتے ہیں۔لیکن پیشتر اس کے کہ وہ اس کام کو شروع کریں بعض امور کا تصفیہ ضروری ہے تاکہ بات شروع ہو کر ضائع نہ ہو جائے اور وہ امور سوال و جواب اور ان کی اشاعت کے طریق کے متعلق ہیں۔ہمیں اس جگہ اپنی رائے ظاہر کر دیتا ہوں اگر اس میں کوئی ایسی بات ہو جو نا واجب ہو یا مثلاً ایک فریق کو اس سے کوئی خاص فائدہ پہنچتا ہو تو وہ اس کی نسبت تحریر فرما دیں اس کی اصلاح ہوسکتی ہے۔میری رائے میں۔۱- چونکہ اعتراضات کا سلسلہ ایسا وسیع ہوتا ہے کہ ان کا ختم ہونا ہی ناممکن ہے کیونکہ اعتراض ہر ایک شے پر ہو سکتا ہے اس لئے اس سلسلہ کو نا واجب طوالت سے بچانے کے لئے یہ طریق اختیار کیا جائے کہ پروفیسر صاحب قرآن کریم کے الہامی ہونے کے خلاف جو اعتراض رکھتے ہوں ان میں سے تین اعتراض جو ان کے نزدیک سب سے مضبوط اور لاینحل ہوں چن لیں اور انہی کو پیش کریں۔یہ نہیں کہ سوال کے بعد سوال کا سلسلہ شروع ہو جائے۔بعض سوال بھی وسیع ہوتے ہیں اور ان کی جزئیات سینکڑوں ہوتی ہیں اس کے متعلق بھی یہ قاعدہ رہنا چاہئے کہ جزئیات بھی تین سے زیادہ نہ چھٹی جاویں۔مثلاً یہ کہ قرآن کریم پر یہ اعتراض ہو کہ اس میں بعض باتیں خلاف قانون قدرت کے ہیں تو اس اعتراض کی مثالیں انتخاب کرتے وقت بھی یہ بات مد نظر رکھی جائے کہ سب سے صاف اور واضح تین مثالیں چن لی جائیں نہ یہ کہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اعتراضات کا شروع ہو جائے۔کیونکہ جب سب سے زیادہ واضح اعتراضات کا جواب ہو گیا تو دوسری مثالوں کا جواب بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ موجود ہی ہوگا اور یہ طریق وقت کے بچانے کے لئے ایسے سلسلہ تحریرات میں مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے جس میں ایک فریق کا کام صرف