انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 389

انوار العلوم جلد ۵ ۳۸۹ اسلام پر پرفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب میں ایک نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔سید امیر علی صاحب اور کثرت ازدواج تیسری بات جو پروفیسر رام دیو صاحب نے سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کی ہے یہ ہے که کثرت ازدواج زنا کاری ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ حوالہ بھی ایسا ہی غلط ہے جیسا کہ پچھلے دو حوالے۔سید امیر علی صاحب نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ کثرت ازدواج زنا کاری ہے اور یہ کہ اس امر کے متعلق اسلام کی تعلیم ناقص ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سید امیر علی صاحب کی کتاب میں نہیں ایسے فقرات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کثرت ازدواج مہذب ممالک کے لوگوں کے لئے درست نہیں اور قابل ملامت فعل ہے۔مگر ان کی کتاب پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساتھ ہی یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ اسلام کی بھی میں تعلیم ہے پس انھوں نے جو کچھ بھی کثرت ازدواج کے خلاف لکھا ہے وہ گو غلط ہو مگر اسلام پر حملہ نہیں کہلاسکتا کیونکہ وہ اسے اسلام کا ہی حصہ قرار دیتے ہیں۔سید امیر علی صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک نکاح کے متعلق اسلام کی دو تعلیمیں ہیں ایک تعلیم تو غیر تعلیم یافتہ زمانوں اور ملکوں کے لئے یا بعض مجبوریوں کو جو انسان کو پیش آجاتی ہیں مدنظر رکھ کر دی گئی ہے اور ایک تعلیم تہذیب کے زمانہ کے لئے اور مہذب ممالک کے لئے ہے۔چنانچہ انھوں نے اس باب کو جس میں عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیم بیان کی ہے شروع ہی اس فقرہ سے کیا ہے تمدنی ترقی کے بعض درجوں میں ایک مرد کا بہت سی عورتوں سے تعلق ایک ایسا فعل ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا اسی باب میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ :۔اس امر کو ہمیشہ زیر نظر رکھنا چاہئے کہ کثرت ازدواج حالات پر منحصر ہے بعض زمانوں اور سوسائٹی کی بعض حالتوں میں عورتوں کو فاقہ کشی اور تباہی سے بچانے کے لئے یہ نہایت ہی ضروری ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ :۔جس جگہ ایسے ذرائع جن سے عور تیں اپنا گزارہ آپ کرسکتی ہیں منظور ہوں وہاں کثرت ازدواج ضرور قائم رہے گی " ان فقروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سید امیر علی صاحب اگر ایک طرف یعنی ممالک اور بعض زمانوں کے لئے کثرت ازدواج کو نا پسندیدہ قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف بعض ممالک اور بعض حالات میں اس کو ضروری بھی قرار دیتے ہیں۔پس ایسی صورت میں یہ کہنا کہ وہ کثرت ازدواج کو زنا کاری قرار دیتے ہیں ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔