انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 390

انوار العلوم جلد ۵ ٣٩٠ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ گوستید امیر علی صاحب نے کثرت ازدواج کو بعض حالتوں میں جائز رکھا ہو مگر جبکہ ان کے نزدیک بعض حالتوں میں تعلیم نا پسندیدہ بھی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان کے نزدیک اسلام کی تعلیم ناقص ہے کیونکہ وہ صرف بعض زمانوں کے لئے اور بعض ممالک کے لئے محدود ہو گئی۔یہ سوال سید امیر علی صاحب پر ضرور پڑ جاتا اگر یہ ثابت ہو سکتا کہ ان کے نزدیک اسلام کا صرف یہی حکم ہے کہ کثرت ازدواج ضرور کیا کرو یا یہ کہ ان کے نزدیک اسلام کے رو سے ہر حالت میں ایک سے زیادہ بیویاں کرنی ہی پسندیدہ ہوں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا یہ عقیدہ نہیں۔وہ اگر مہذب ممالک میں ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس کا یہ باعث نہیں کہ وہ اس تعلیم کو اپنی عقل کے رو سے درست سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم میں نقص نکالتے ہیں بلکہ اس کا باعث جیسا کہ خود ان کی تحریر سے ظاہر ہے یہ ہے کہ ان کے نزدیک اسلام ہی یہ تعلیم دیتا ہے کہ کثرت ازدواج کا حکم وقتی ہے۔وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ہر حالت اور ہر زمانہ کے مطابق ہے اور اسی کی تائید میں وہ ایک کثرت ازدواج کا مسلہ بھی پیش کرتے ہیں جس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام نے ہر زمانہ اور ہر قوم کے مناسب حال تعلیم دی ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ : " یہ یاد رکھنا چاہتے کہ احکام کی وسعت ان کے مفید اور نفع رساں ہونے کا بہترین ثبوت ہوتی ہے اور یہ قرآن کریم کے احکام کی خصوصیت ہے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ سوسائٹی کے مناسب حال حکم بھی دیتا ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ قوم کے مناسب حال حکم بھی دیتا ہے۔چنانچہ وہ ایک بیوی پر اکتفاء کرنے کو قرآن کریم سے ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :۔چونکہ احساسات کے معاملہ میں کامل عدل ناممکن ہے اس لئے قرآن کریم کا فتوی کثرت ازدواج کے متعلق قریباً حرمت کا ہی حکم رکھتا ہے " ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اگر ایک بیوی پر اکتفاء کرنا بعض حالتوں میں ضروری ہے تو اسے بھی وہ قرآن کریم کا ہی حکم ثابت کرتے ہیں۔مذکورہ بالا خیال کی تائید میں ان کے یہ حوالہ جات بھی پیش کئے جاسکتے ہیں وہ کثرت ازدواج کی رسم کے قانونا رو کے جانے کی خواہش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔لیکن یہ منسوخی صرف حقیقت پر آگاہ ہونے اور رسول کریم کی تعلیم کے سمے منے سمجھنے کا ہی نتیجہ ہو سکتی ہے۔اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ :۔