انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 361

اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ہندو مذہب کے متعلق ٹیگور کی رائے میٹرستیندرا ناتھ ٹیگور آئی ہیں۔ایس لکھتے ہیں کہ تم کوئی عقیدہ رکھو خواہ دہریت کو اختیار کرو تم ہندو مذہب سے خارج نہیں ہو سکتے جس کے یہ معنے ہوئے کہ ہندو مذہب کوئی حقیقت اپنے اندر مخفی نہیں رکھتا بلکہ ایک نام ہے جو اس نام کو اختیار کرے وہ خواہ کوئی عقیدہ رکھے وہ ہندو ہی ہے۔اس تعریف کی موجودگی میں جو ایسے لائق آدمی نے ہندو مذہب کی کی ہے کیا پروفسیر صاحب کہہ سکتے ہیں کہ ہندو مذہب دنیا کو تسلی دے سکتا ہے۔مسٹر ٹیگور کے بیان کے مطابق تو کوئی خیال بھی دنیا میں پیدا ہو ہندو مذہب اس کو غلط دیکھ کر اس کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کے اختیار کرنے کی اجازت دیدیتا ہے۔اس صورت میں ہندو مذہب نے دنیا کی اصلاح کی یا دنیا کے بڑھتے ہوئے علوم نے ہندو مذہب کی اصلاح کی ؟ ایک اور مہندو کی رائے رائے بہادر لالہ بیج ناتھ اخبار لیڈر میں لکھتے ہیں کہ ویدوں کو ماننا یا بر ہمنوں اور گائے کی عزت کرنا موجودہ ہندو مذہب کے اصول نہیں کہلا سکتے کیونکہ یہ بائیں آج کل ہمارے خیالات پر قابض نہیں ہیں۔پروفیسر صاب بتائیں کہ جس مذہب نے اپنی کتاب اور اپنے بہترین اصول اپنے ماننے والوں سے نہ منو ائے ہوں حتی کہ اس کے بڑے بڑے پیرو کاروں کو ان اصول کو اصولوں کی فہرست سے خارج کرنا پڑا ہو اس کی نسبت اپنی کے مقولہ کے مطابق کیونکہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ علوم کی بڑھتی ہوئی رو کی موجودگی میں لوگوں کے قلوب پر تصرف رکھ سکتا ہے۔ہندوؤں کا لاش دفن کرنا ہندو مذہب میں لاش کا جلا نا فرض ہے جس کی تائید میں پنڈت دیانند صاحب نے بہت سے دلائل بھی دیتے ہیں اور لاش کو دفنانے والوں پر تسخر بھی اُڑایا ہے لیکن ہندوؤں میں سے جنگا ما اور سنیاسی لوگ مردہ دفن کرتے ہیں یا جنگا ما لوگ پانی میں لاش پھینک دیتے ہیں۔اب کیا اس قوم کا یہ طریق عمل جو ہندو مذہب کی ہدایات کے خلاف ہے کیا پروفیسر صاحب کے نزدیک اس امر کا ثبوت ہے کہ ہندو مذہب اب لوگوں کی تسلی کا موجب نہیں ہوسکتا۔ظاہر میں ہندو دل میں مسلمان آنریل مٹر گوگل داس کے پر کچھ لکھتے ہیں کہیں بہت سے خاندان ایسے جانا ہوں جو ظاہر میں ہندو ہیں لیکن دل میں مسلمان ہیں۔کیا ان کے اس بیان سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ زمانہ کی ترقی کے ساتھ