انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 362

اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب ہندو مذہب ترقی نہیں کر سکا کیونکہ اس کے ماننے والوں کو اس مذہب پر نسلی نہ ہوئی اور اپنے میکا نہ کر کے انہوں نے خفیہ طور پر اسلام کو قبول کر لیا۔مقابله گواس بات کا یہاں تعلق نہیں مگر میں ضمنی طور پر اس امر کے بیان کرنے سے نہیں رہ سکتا کہ آنہ بیل مسٹر گوکل داس صاحب کی یہ شہادت ہندو صاحبان کے اس اعتراض کا بھی قلع قمع کر دیتی ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے۔اس سے تو پتہ لگتا ہے کہ کئی خاندان دل سے اسلام سے آئے مگر وہ اپنے عقیدہ کو اپنے رشتہ داروں سے ڈر کر ظاہر نہیں کر سکے بلکہ یہ شہادت تو اس امر کا ثبوت ہے کہ اسلام کے اظہار کرنے میں لوگوں کو دقتیں ہوئی تھیں اور جبراً ان کو اس بات سے روکا جاتا تھا۔تبھی تو کئی ہندو خاندانوں کو با وجود اسلام کی صداقت کا قائل ہو جانے کے اس کے اظہار کی جرات نہیں ہوئی اور وہ اپنے ہم قوموں سے ڈر کر خفیہ خفیہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں اور ظاہرہ طور پر ہندو بنے ہوئے ہیں۔ویدوں کے متعلق چند اور آراء اپ میں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔پنڈت در گاوتا جوشی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص خاص حد تک ویدوں کے علوم سے زیادہ علوم بھی حاصل کر سکتا ہے۔ان پنڈت صاحب کے بیان کے مطابق دید تمام علوم کا مخزن نہیں بلکہ ویدوں سے اوپر اور علوم بھی ہیں جو انسان حاصل کر سکتا ہے۔وه راؤ بہادر دیوراڈ نایک صاحب کے نزدیک دید ہر زمانہ کے لئے کافی نہیں میں کیونکہ لکھتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ اصلی ویدک تعلیمات اب رائج نہیں ہیں اور شاستر اور سیٹر تھی لکھنے والے عقلمند لوگ تھے جنہوں نے اس زمانہ کی بدلی ہوئی حالت کے مطابق قواعد بنا دیے۔با بو گووندا داس صاحب کا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری نہیں کیونکہ یوگا کے سوا باقی پانچوں آستنگ خیالات کے سلسلہ خدا تعالیٰ کا ذکر تک نہیں کرتے۔پروفیسر صاحب کونسی راہ اختیار کرینگے ان حوالہ جات کے بعد میں نیں سمجھ سکتا کہ پروفیسر صاحب ان دو راہوں کے سوا کسی تمیری راہ کو اختیار کر سکتے ہوں کہ یا تو وہ یہ اقرار کریں کہ جس دلیل کے سا تھ انہوں نے اسلام کے اثر کو ناقس ثابت کرنا چاہا تھا وہ دلیل در حقیقت دلیل نہیں ہے بلکہ ایک بات تھی جو لیکچر کو مزیدار بنانے کے لئے پیش ی گئی تھی اور صرف حاضرین کو خوش کرنا اس سے مقصود تھا اور یا یہ تسلیم کریں کہ وہ دلیل تو درست ہے گو اسلام کے خلاف وہ اس زور کے ساتھ پیش نہیں کی جاسکتی جس قدر کہ آریہ مذہب کے خلاف۔