انوارالعلوم (جلد 5) — Page 326
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۶ اسلام اور حریت و مساوات ایسے صریح طور پر غلط ہیں کہ شاید بہت سے لوگ ان کو پڑھ کر فوراً یہ فیصلہ کر دیں کہ خواجہ صاحب نے جان بوجھ کر افتراء پردازی سے کام لیا ہے۔مگر چونکہ علم انفس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ بلا سوچے سمجھے بعض خاص حالات میں اس قسم کے افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے اس لئے میں ان پر یہ الزام نہیں لگاتا۔میں یہی خیال کرتا ہوں کہ اپنی ٹیکی اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے ان کے نفس میں جو جوش پیدا ہوا ہے اس کے اثر کے نیچے بلا سوچے سمجھے ان کی تحریر میں بعض ایسی باتیں آگئی ہیں جو بالبداہت واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے غرض صرف یہ ہے کہ وہ ناظرین کو میرے خلاف بھڑ کا دیں یا ان پر میرے مضمون کی کمزوری اور بے ہودگی ثابت کریں۔خواجہ صاحب کا حق وکالت خواجہ صاحب نے مجھ پر جو بہتان باندھے ہیں ان میں سے بعض صریح اور موٹے بہتانوں کا ذکر کرنے کے بعد میں خواجہ صاحب کے مضمون پر ایک سرسری نظر ڈالتا ہوں۔خواجہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں ان کی وکالت پر معترض ہوں حالانکہ اخبار میں مضمون چھپنے پر ہر ایک شخص کا حق ہے کہ اس کا جواب دے۔میں خواجہ صاحب کو پھر اپنی پہلی نصیحت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ وہ بلا خور سے مضمون پڑھنے کے یونسی نہ جواب دینے بیٹھ جایا کریں۔میں نے کبھی بھی ان کے حق وکالت پر اعتراض نہیں کیا۔جو کچھ میں نے لکھا تھا یہ تھا کہ خواجہ صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ سائل کو میرے مطالبہ کے مطابق حریت و مساوات کی تشریح کر لینے دیتے یا اگر انتظار نہ کر سکتے تھے تو خود حریت و مساوات کی تشریح کر کے اس کے متعلق میری رائے دریافت کرتے۔چلا اس کے کہ میری رائے دریافت کریں مجھ پر اعتراض کرنا جائز نہ تھا۔پس ان کا یہ لکھنا کہ میں ان کے حق وکالت پر اعتراض کرتا ہوں درست نہیں۔ہماری باتیں نہ تو پوشیدہ ہیں نہ اپنے خیالات کو ہماری جماعت نے کبھی چھپایا ہے جو شخص جرح کو نہیں سن سکتا وہ ہر گز اس بات کا مستحق نہیں کہ کامیابی کا منہ دیکھے ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب دُنیا کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے متاع کو تمام دنیا کے مبصروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔لیکن ہماری طرف سے اعتراض کی اجازت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ بلا سوچے اور مجھے شخص اعتراض کر سکتا ہے۔اپنے وقار کے قائم رکھنے کے لئے دوسروں کا بھی فرض ہے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس بات پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ جس بات پر وہ اعتراض کرتے ہیں کیا وہ ہم نے کہی بھی ہے یا نہیں ؟