انوارالعلوم (جلد 5) — Page 325
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۵ اسلام اور حریت و مساوات اور خوشنما چنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے رو پیر رکھ کر باقی اگر چے گا تو وہ غرباء میں تقسیم ہو گا۔اس جمع شدہ مال کے بعد خاک بچے گا ؟ تعجب ہے کہ قرآن دانی کے بعد احادیث اور مفسرین کے قول سے تو آنجناب استدلال کرچکے تھے اب پیش پسند امراء کے خیالات کو سندا بیان کرنا باقی تھا۔یہ درجہ بدرجہ تنزل واقع میں حیرت انگیز یہ تو وہ مضمون ہے جو خواجہ صاحب میری طرف منسوب کرتے ہیں اور جو کچھ میں نے لکھا ہے۔وہ یہ ہے کہ خواجہ صاحب نے لکھا تھا کہ قرآن کریم کی رو سے جو مال ضرورت سے زائد بچے وہ غرباء پر خرچ کر دینا چاہئے۔اس کے متعلق میں نے لکھا تھا۔ضرورت سے زائد بچے ہوئے کی اصطلاح خود مہم ہے بعض لوگ ہو کچھ ان کو مل جائے گولاکھوں روپیہ کیوں نہ ہو اس کو خرچ کر دیتے ہیں اور ضرورت سے زائد ان کے نقطۂ خیال میں کوئی مال ہوتا ہی نہیں " پھر اسی سلسلہ میں آگے چل کر لکھا تھا کہ " اگر اس بات کی اجازت دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی ضرورت کا خود فیصلہ کرے تو پھر بھی مساوات نہیں رہے گی۔کوئی شخص اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور کھلے اور آراستہ اور پیراستہ مکانوں اور خوشنما چنوں اور میوہ دار باغوں کے لئے روپیہ رکھ کر باقی اگر بچے گا تو غرباء میں بانٹ دے گا۔اور غریب بیچارے گاڑھا پہنے اور جھونپڑیوں میں رہنے یہ کہ مجبور ہوں گے" اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ امراء کو چاہئے کہ اس قدر اسباب تعیش جمع کریں۔بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر خواجہ صاحب کا بتایا ہوا اصل شریعت اسلام کا بتایا ہوا ہوتا تو اس کے ساتھ کوئی تشریح بھی ہوتی۔ورنہ امراء یہ شرارت کرتے کہ سب سامان تعیش کو جمع کر لیتے اور اس خیال سے کہ ہمارا بچا ہوا مال غرباء کو دیا جائے گا۔اس کو عیاشی میں اُڑا دیتے۔اب ہر ایک عقلمند انسان سمجھ سکتا ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ خواجہ صاحب کے بتائے ہوئے مضمون کے بالکل الٹ ہے۔خواجہ صاحب نے کیوں افتراء پردازی کی یہ چار موٹے موٹے بتانہیں جو وجہ صاحب نے مجھ پر لگائے ہیں اور