انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 275

انوار العلوم جلد ۵ ۲۷۵ یہ ترک موالات اور احکام اسلام کے تم بھو کے تھے ، ان کی سکراہٹ کو تم اپنی سب حاجتوں کے پورا ہونے کی کلید سمجھتے تھے، ان کی نظر کو تم اپنے لئے خُدا کی نظر سے زیادہ مبارک خیال کرتے تھے۔بے تک تم نے گھنٹوں اور پیروں جبین نیاز رگڑی بلکہ یوں کہو کہ تم نے اس قدر ناک رگڑی کہ تمہاری ناک ہی باقی نہ رہی مگر اس سے سی ثابت کیا کہ تم منہ سے تو خدائے واحد کے پرستار ہو لیکن اصل میں تم پیسہ کے یار ہو۔اس کی خاطر تم کو ذلیل سے ذیل کام کرنے میں بھی عار نہیں تم اس کے پیچھے خدا تعالٰی کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہو۔تم نے کالجوں میں تعلیم پائی اور ان کی زبان سیکھی اور ضرور رکھی لیکن کیا اس لئے کہ اس زبان کو سیکھ کر تم ان ہی کی زبان میں ان کو حق پہنچاؤ ان کے وساوس کو معلوم کر کے ان کے دُور کرنے کی کوشش کرو ، اسلام کی خوبیوں سے ان کو واقف کرو ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو پیغام پہنچاؤ ؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ تم زیادہ عمدگی سے ان کے آگے سوال کر سکو اور ان ہی کی زبان میں ان کے گیت گا سکو۔تم نے ان کی زبان کیوں پڑھی ؟ کیا قرآن کی خدمت کے لئے ؟ تم تو اس کو پڑھ کر خدا کی باتوں کو بھول گئے۔تم نے خدا کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور پرکھے اور ایگل آور سینسر تمہاری نظروں سے ایک دم کے لئے جدا نہ ہوتے تھے تم نے بجائے خدا کے رسول کی باتوں کے پہنچانے میں اس زبان سے مدد لینے کے بخاری اور سلم کا نام تک بھلا دیا۔ڈارون اور کیلے اور جیمز کا وظیفہ ہر دم تمہاری زبان پر رہنے لگا۔تم کہو گے کہ یہ انگریزی تعلیم کا نقص تھا۔میں کہتا ہوں یہ تعلیم کا نقص نہ تھا یہ تمہاری نیتوں کا نقص تھا۔اگر تم خدا اور رسول کی محبت رکھتے اگر اسلام کو تم نے خود سمجھا ہوتا تو کیا تم اپنی اولاد کے لئے نور البیان کی فکر نہ کرتے اگر تم ذرا بھی توجہ کرتے تو کیا نور ظلمت کے سامنے ٹھہر سکتا ؟ آؤ تو میں تم کو تمہارے ہی بچوں جیسے اور بچے دکھاؤں جو تمہارے بچوں کی طرح کا لجوں میں ان ہی پروفیسروں سے پڑھتے ہیں، وہی کتابیں وہ پڑھتے ہیں جو تمہارے بچے پڑھتے ہیں، ان ہی یونیورسٹیوں کا امتحان دیتے ہیں جن کا وہ دیتے ہیں لیکن ان کے دل نورِ ایمان سے معمور ہیں۔وہ قرآن کریم کو اس لئے نہیں مانتے کہ ان کے باپ دادا اس کو مانتے تھے بلکہ اس لئے کہ اس کو انہوں نے خود پڑھا اور اس کو سچا پایا ہے۔وہ اس کو قسمیں کھانے کا آلہ نہیں جانتے بلکہ اسے خدا تعالیٰ سے ملنے کا دروازہ خیال کرتے ہیں اس کو بند کر کے رکھ نہیں چھوڑتے اس کی تلاوت کرتے ہیں طوطے کی طرح نہیں رہتے بلکہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔وہ نمازوں کے عادی ہیں ، روزوں کا خیال رکھتے ہیں، دُعا کے منکر نہیں دعاؤں کو اپنی زندگی کا سہارا جانتے ہیں۔غرض اسلام ان کا شعار ہے خدا کی محبت ان کی روح ہے اور اس کا ذکر ان کی غذا ہے اور اس کے رسول کی ہر ایک بات ان کو پیاری ہے پس یہ نقص کانجوں کا نہیں،