انوارالعلوم (جلد 5) — Page 236
انوار العلوم جلد ۲۳۶ ترک موالات اور احکام اسلام غلطی سرزد ہو اور انسانوں سے غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم ان کاموں میں ان کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیں جو اپنی ذات میں گناہ نہیں ہیں اور یہ کام جن کو اب چھڑوایا جاتا ہے ان کو پہلے کبھی مذہباً ایسا برا نہیں کہا گیا کہ ان کا کرنا حرام ہے ہیں دوسرے سوالوں کی وجہ سے ان کاموں میں موالات نہیں چھوڑی جاسکتی ہاں اگر اللہ تعالیٰ یہ فرمانا کہ آشم اور عادی کے ساتھ مل کہ کوئی کام بھی نہ کرو خواہ وہ دین یا دنیا میں فائدہ مند ہی کیوں نہ ہو۔تب بے شک یہ فتویٰ قابل غور ہو سکتا تھا۔مولوی محمود الحسن صاحب کے فتویٰ میں ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم سے صحابیہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم لوگ کفار سے قطع تعلق کر لینگے تو پھر ہمارے رشتہ دار چھٹ جائیں گے اور ہماری تجارتیں تباہ ہو جائیں گی ہی اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ وَازْوَاجُكُمْ وَعَشِيرتكُم وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَونَ كَسَادَهَا وَمَسْكِن تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الفسِقِينَ (التوبه : (۲۴) کہہ دو تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت کی کساد بازاری جس سے تم ڈرتے ہو اور مکانات جو تم کو پسند ہیں۔اگر یہ سب تم کو خدا اور خدا کے رسول اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز میں تو منتظر ر ہو تا کہ لے آئے اللہ اپنے حکم کو۔اور اللہ دستگیری نہیں کرتا اس قوم کی جو نا فرمان ہو اس حدیث کے بیان کرنے میں مولوی صاحب موصوف کو اس بات کا بتانا مد نظر ہے کہ ترک موالات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ہوا ہے اور یہ کہ جولوگ نقصان کے خوف سے اس سے ڈریں وہ خدا کے نافرمان ہیں یہ سوال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی اُٹھ چکا ہے کہ ترک موالات سے بہت نقصان ہو گا اور اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ خود اللہ تعالی حل کر چکا ہے که خواہ کس قدر نقصان بھی ہو اس پر عمل کرنا چاہئے۔اس حدیث کا مطلب سمجھنے کے لئے میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اس آیت کا زمانہ نزول دیکھا تغيير معالم التنزيل مؤلفہ ابو محمد الحسين بن مسعود الفراء البغوی جلد ۲ صفحہ ۲۷۷ زیر آیت "قُلْ إِنْ كَانَ اداره تالیفات اشرفیه بیرون بو ھر گیٹ ملتان)