انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 237

۲۳۷ ترک موالات اور احکام اسلام جائے کیونکہ اگر یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے جب آپ ہجرت فرما چکے تھے اور جب کفار مکہ سے جنگ چھڑ چکی تھی۔تو تب تو اس حدیث سے کوئی زائد امر پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا کوئی بھی منگر نہیں کہ جن کفار سے مسلمان بر سر جنگ ہوں ان کے ساتھ محبت اور تناصر کا تعلق رکھنا اور انکے زیراقتدار ملک میں رہنا یہ سب منع ہے اور یہی مطلب ان آیات کا ہے جو پہلے گزر چکی ہیں لیکن اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ آیت ہجرت سے پہلے اتری ہے تو پھر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ اس حدیث کا جو اس آیت کا شان نزول بتاتی ہے کیا مطلب ہے ؟ جب ہم تفاسیر کو اس غرض کے لئے دیکھتے ہیں تو سب کی سب متفق نظر آتی ہیں کہ سورہ تو بہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے اور بعض تو اسے فتح مکہ کے بعد کی بتاتے ہیں مگر اس بات پر اکثر متفق ہیں کہ یہ سورۃ ساری کی ساری مدنی ہے اس کا کوئی حصہ لگی نہیں بعض لوگ اس قدر اختلاف کرتے ہیں کہ آخر کی دو آیتیں مدنی نہیں ہیں لیکن ان کی نسبت اس جگہ سوال نہیں ہیں حصہ کی نسبت سوال ہے وہ تمام مفسرین کی رائے کے مطابق مدنی ہے اور مدینہ میں آنے کے بعد چونکہ کفار مکہ کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی تھی اس لئے ان سے تعلقات قطع کرنے کا حکم تھا جیسا کہ پہلی آیات کی تشریح کرتے وقت بیان کیا جا چکا ہے۔فتویٰ میں حدیث ادھوری لکھی گئی ہے اس آیت کی تفسیر میں جہاں وہ روایت بان کی گئی ہے جو مولوی محمود الحسن صاحب نے تحریر فرمائی ہے وہاں اس کے ساتھ ایک اور فقرہ بھی ہے جو ان کے فتویٰ میں درج ہونے سے رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے ثُمَّ رُخِصَ لَهُمْ بَعْدَ ذَالِكَ یعنی پہلے تو رسول کریم نے یہ حکم دیا تھا کہ کفار سے کلی طور پر قطع تعلق کر لو لیکن بعد میں اجازت دے دی گئی تھی۔" یہ فقرہ دوصورتوں سے خالی نہیں یا تو اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ جب کفار سے جنگ ختم ہوگئی تو چونکہ وہ حالات بدل گئے تھے جن کی وجہ سے قطع تعلق کا حکم تھا اس لئے بعد میں تعلقات رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔اور یا یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ علاوہ دوستانہ تعلق سے منع کرنے کے جو کہ جنگ کے دنوں میں کسی طرح قائم نہیں رکھے جا سکتے۔آپ نے بعض اور تمدنی تعلقات سے بھی صحابہ کو روک دیا ہو مگر بعد میں اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو۔ان دونوں معنوں میں سے کوئی سے معنے بھی کئے جاویں موجودہ زمانہ میں ترک موالات کا حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اگر پیکم منسوخ ہو چکا ہے تو اس کا اثر اس زمانہ میں کچھ ہے ہی نہیں اور اگر یہ دوران جنگ کے زمانہ کے لئے حکم تھا بعد میں حالات کے تغیر کی وجہ سے اس پر عمل کرنا چھوڑا گیا تو اس وقت انگریز ہم سے بر سر جنگ نہیں ہیں میں تم رُخِصَ لَهُمُ کا فقرہ جسے فتویٰ