انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 226

ترک موالات اور احکام اسلام اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أوتُو الكتب مِن قَبْلِكُمْ وَالكُفَّارَ أَوْلِيَاء وَاتَّقُوا اللهَ إِن كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ (المائدة : (٥٨) یعنی " اے ایمان والو تم ان اہل کتاب اور کافروں کو اپنا یار و مدد گار مت بناؤ جنہوں نے بنا لیا ہے تمہارے دین کو سہنسی اور کھیل اور اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو ( ترجمه منقول از فتوی ) ترک توتی کے لئے شرط اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تو تی کے ترک کرنے کے لئے ایک شرط لگائی ہے۔یعنی ان اہل کتاب اور نصاری سے توتی نہ کرو جو تمہارے دین کو سنی اور کھیل بناتے ہیں لیکن یہود و نصاری کے علاوہ باقی کافروں کو بھی اس حکم میں شامل کر دیا ہے۔پس پہلی آیت کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ یہود و نصاری سے خواہ کسی حالت میں ہوں توتی نا جانز ہے بلکہ پچھلی آیت میں جو شرط لگانی ہے وہ لگانی ضروری ہوگی ورنہ نعوذ باللہ من ذالك یہ کہنا پڑے گا کہ چھ آیت پہلے تو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ یہود و نصاری سے مطلقاً دوستی نہ کرو ان سے امداد نہ لو اور نہ ان کو دو۔اور چھ آیت کے بعد فرماتا ہے کہ جو ان میں سے دین کو منسی یا کھیل بنادیں ان سے ایسا تعلق پیدا نه کرد۔غرض پہلی اور دوسری دونوں آیتوں میں یہ شرط ساتھ لگانی پڑے گی کہ ان یہود و نصاری سے دوستی نہ کی جاوے جو اسلام کو سنی اور کھیل بناتے ہیں اور جب اذان دی جاتی ہے تو اس پر مبنتے ہیں اور اسے کھیل بنا لیتے ہیں جیسا کہ ساتھ ہی فرمایا ہے وَإِذْ نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلوة اتَّخَذُوهَا هُزُوا ولعباء (المائدۃ : 09) یعنی جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو وہ ہنسی اور کھیل بنا لیتے ہیں لیکن صرف یہود و نصاری کی نسبت ہی یہ فتویٰ نہیں ہو گا بلکہ باقی تمام لوگوں کی نسبت بھی ہوگا خواہ ہندو ہوں خواہ سکھ کیونکہ دوسری آیت میں صاف طور پر یہود و نصاری کے ساتھ والكفار المائدة :) کا لفظ بڑھا کر یہود و نصاری کے سوا جس قدر کافر ہیں ان کو بھی اس فتویٰ میں شامل کر دیا گیا ہے۔پس جو حکم ہود اور نصاریٰ کی نسبت دیا جائے گا وہی حکم و انکفار کے لفظ کی وجہ سے دوسرے تمام مذاہب کے پیروؤں کی نسبت بھی لگانا پڑے گا۔ان آیتوں میں صرف دوستی سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ ان دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے ان میں توتی۔سے مراد صرف دوستی ہے مدد لینے یا دینے کا ذکر نہیں۔کیونکہ دین سے منسی یا اذان سے مہنسی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے کہ حکومتوں کا اس سے تعلقی ہو۔یہ بات افراد سے تعلق رکھتی ہے پس مراد یہی ہوئی کہ یہودیوں عیسائیوں یا دیگر مذاہب کے پیروؤں میں سے جو لوگ تمہارے دین پر مبنی کریں تمسخر اڑا نہیں اور اذان من