انوارالعلوم (جلد 5) — Page 222
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۲ ترک موالات اور احکام اسلام اگر کفار کو کچھ حاصل ہوتا ہے یہ ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے اور کیا ہم نے تم کو بچایا نہیں مومنوں سے ؟ پس اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کو فیصلہ کرے گا اور اللہ تعالی کبھی مسلمانوں پر کافروں کو غلبہ نہیں دے گا“ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت جو کھی گئی اس میں ان منافقوں کو جو مدینہ میں رہتے تھے اور اسلامی حکومت کے افراد تھے ان کا فروں سے جو اسلام کے مٹانے کے لئے مسلمانوں سے بربر جنگ تھے دوستی رکھنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کی مدد کرنے اور ان کو اکسانے سے باز رکھا گیا ہے نہ کہ تمام دنیا جہاں کے کافروں سے اور انگریز ہرگز اسلام کی وجہ سے مسلمانوں سے نہیں لڑ رہے بلکہ جو لڑائی وہ کر چکے ہیں وہ بھی دنیوی وجوہ پر تھی۔تیری آیت تیسری آیت جو ترک موالات کی تائید میں پیش کی جاتی ہے یہ ہے۔جو آیا تھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ اتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُو اللَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَا مُبِيناه (النساء : ۱۴۵) اس کا ترجمہ ترک موالات کے فتوی میں یوں لکھا گیا ہے۔" اے ایمان والو مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا یارو مدد گار مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر الہ کا الزام صریح لو ! اس آیت میں بھی پہلی آیت کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کہ کن کفار سے ترک موالات کرو اور کن سے نہیں اور اس کی تشریح دوسری آیات ہی سے کرنی پڑے گی اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ان آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریزوں سے ترک موالات کا حکم کسی صورت میں نہیں نکلتا۔چوتھی آیت اب میں چوتھی آیت کو لیتا ہوں جو یہ ہے۔يَا بَيْهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا۔ما جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ (المتحہ : (٢) لینی " اے ایمان والو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوئے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے۔(ترجمہ منقول از فتونی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور مخاطبوں کے دشمنوں کو دوست و مددگار بنانے سے منع فرمایا ہے لیکن یہ کہ دشمن سے کیا مراد ہے ؟ اس کی تشریح نہیں فرمائی دشمنی عقائد کے اختلاف کا نام بھی ہو سکتا ہے اور اس سے مراد وہ کینہ بھی ہو سکتا ہے جس کے اثر سے انسان اپنے مخالف کو بالکل تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے پس اس آیت میں " عدو کے جو معنے ہیں وہ معلوم کرنے ہمارے لئے ضروری ہیں اور اس لئے ہمیں دُور جانے کی ضرورت نہیں اسی آیت کے اگلے حصہ میں اس دشمنی کی اللہ تعالٰی