انوارالعلوم (جلد 5) — Page 223
انوار العلوم جلد ۵ ۲۲۳ ترک موالات اور احکام اسلام ہو نے خود تفصیل فرما دی ہے جو نہ معلوم کسی وجہ سے فتوی نویسیوں نے ترک کر دی ہے پوری آیت یوں ہے يا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُ وَكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ : يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَ إِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاء مَرْضَاتِى تُسَرُّونَ إِلَيْهِمُ بالمَوَدَّةِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَن يَفْعَلُهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السبيل ٥ ( المستحنہ :۲) اور اس سے اگلی آیت یہ ہے إِن يَنقَفُوكُمْ يَكُونُوا لكُمُ اعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمُ وَالْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَو تَكْفُرُونَ المستحه : ۳) اور ان دونوں آیتوں کا ترجمہ یہ ہے۔" اسے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم ان کو محبت کے پیغام بھیجتے ہو یا یہ کہ تم ان کوخط لکھتے ہو۔حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے وہ لوگ رسول کو اور تم کو اس لئے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان کیوں لائے ؟ اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لئے اور میری رضا کے حاصل کرنے کے لئے نکلتے ہو تو ان کی طرف پوشیدہ طور پر محبت کے پیغام بھیجتے ہو یا یہ کہ پوشیدہ طور پر خط بھیجتے ہو (مودۃ خبط کو بھی کہتے ہیں ، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو یا جسے ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی شخص تم میں سے ایسا کرے وہ ضرور سیدھے راستے سے بہک گیا۔اگر وہ کہیں تم کو پکڑ پاویں تو ضرور تمہارے دشمن ہوں اور اپنے ہاتھ بھی تمہاری طرف بڑھا دیں اور اپنی زبانیں بھی دراز کریں اور خواہش کرتے ہیں کہ تم کافر ہو جاؤ " اگر فتویٰ شائع کرنے والے اس آیت کو سارے کا سارا نقل کر دیتے بلکہ اگلی آیت بھی ساتھ درج کر دیتے تو شاید اس کے متعلق مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی کیونکہ اس آیت کا مضمون خود ہی شاہد ہے کہ انگریزوں سے ترک موالات کے ساتھ آیت کا تعلق ہی نہیں ہے اس آیت میں صاف طور پر اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جو قوم تم سے جنگ کر رہی ہو اور تم کو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کے سبب سے تمہارے گھروں سے نکالتی ہو اور اگر تم اس کے قابو پڑ جاؤ تو تم کو واپس کفر میں لانے کے لئے زبان اور ہاتھوں سے ایذاء دینے میں بھی اسے کوئی عار نہ ہو تو ایسی قوم سے دوستی نہ کرو اور دوستی کی تشریح بھی فرما دی کہ یہ نہ کرو کہ اسلامی لشکر کی خبریں اسے خفی طور پر پہنچاؤ۔اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ نہ یہ باتیں انگریزوں میں پائی جاتی ہیں اور نہ اس قسم کی دوستی ان سے کوئی کرتا ہے ہم تو خود ان کے زیر حکومت لیتے ہیں ان کے اور ہمارے تعلقات اس قسم کے ہو ہی نہیں سکتے جو اس آیت میں بیان کئے گئے ہیں اور جب یہ بات ہے تو اس سے ترک موالات کا جوانہ ملکہ حکم